اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے بغیر تو عمران خان سے ملاقات نہیں ہوسکتی، فواد چوہدری
ہماری اپروچ مختلف ہے، ہم بات چیت سے چیزیں آگے بڑھانا چاہتے ہیں، اسٹیبلشمنٹ کو ہماری بات سننی اور عمران خان کو ہماری بات سمجھنی ہوگی؛ سابق وفاقی وزیر کی گفتگو

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے اراکین نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین اور بشریٰ بی بی سے ملاقات کی اجازت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا، اس سلسلے میں سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری، محمود مولوی اور عمران اسماعیل بدھ کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے، جہاں انہوں نے فیصل فرید چوہدری ایڈووکیٹ کے ذریعے درخواست دائر کی۔
اطلاعات کے مطابق درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ درخواست گزار بانی پی ٹی آئی کے قریبی ساتھی اور دوست ہیں، انہیں اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سے ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ موجودہ سیاسی صورتحال اور قومی معاملات پر تبادلہ خیال کیا جا سکے، بانی پی ٹی آئی کے ساتھ جیل میں روا رکھے جانے والے سلوک پر شدید تشویش پائی جاتی ہے، اس لیے ملاقات کی اجازت دینا ضروری ہے۔
"عمران خان سے ملاقات اسٹیبلشمنٹ کی رضامندی کے بغیر ممکن نہیں، لیکن ہمارا مؤقف شروع سے یہی رہا ہے کہ مسائل کا حل محاذ آرائی نہیں بلکہ مذاکرات اور مکالمے میں ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کو بھی ہماری بات سننی ہوگی اور عمران خان کو بھی ہماری نیت اور مؤقف کو سمجھنا ہوگا تاکہ سیاسی ڈیڈ لاک کا کوئی… pic.twitter.com/aL1UShGNbS
— Hiba Fawad (@HibaFawadPk) August 5, 2026
اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کی رضامندی کے بغیر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ممکن نہیں، اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے بغیر تو عمران خان سے ملاقات نہیں ہوسکتی، اسٹیبلشمنٹ کو ہماری بات سننی اور عمران خان کو ہماری بات سمجھنی ہوگی تاکہ سیاسی ڈیڈ لاک کا کوئی قابلِ عمل حل نکل سکے کیوں کہ ملک کو آگے لے جانے کا یہی واحد راستہ ہے، ہمارا مؤقف شروع سے یہی رہا ہے کہ مسائل کا حل محاذ آرائی نہیں بلکہ مذاکرات اور مکالمے میں ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے اس پٹیشن کی فیصل چوہدری خود پیروی کریں گے اور عدالت میں خود پیش ہوں گے، وہ ایک سینئر، تجربہ کار اور آئینی معاملات پر مہارت رکھنے والے وکیل ہیں، جو ماضی میں بھی پی ٹی آئی کے متعدد اہم مقدمات کی پیروی کر چکے ہیں، عمران خان کے قریبی ساتھی ہونے کے باعث وہ اس معاملے کی قانونی اور سیاسی حساسیت سے بھی بخوبی آگاہ ہیں، ہمیں امید ہے کہ یہ کوشش صرف ایک قانونی کارروائی تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے نتیجے میں بامعنی ڈائیلاگ کا راستہ بھی ہموار ہوگا، پاکستان کے مفاد میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو بات چیت کے ذریعے آگے بڑھنا چاہیے۔
