ترکیہ سے ڈیپورٹ 10 پاکستانیوں کیخلاف مقدمہ درج، انسانی سمگلروں کو لاکھوں روپے دینے کا انکشاف
تمام افراد نے ایجنٹوں کو فی کس 12 لاکھ روپے تک کی خطیر رقم ادا کی تھی، غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے کی کوشش کے دوران ترکیہ کی پولیس نے ان افراد کو گرفتار کرلیا

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)ترکیہ کی سرحد غیر قانونی طور پر عبور کرنے کی کوشش کے دوران گرفتار ہو کر پاکستان ڈیپورٹ کیے جانے والے 10 پاکستانی شہریوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا، وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے انسانی سمگلنگ میں ملوث ایجنٹوں کے خلاف بھی کارروائی تیز کردی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ترکیہ سے بے دخل کیے گئے تمام پاکستانی شہری جیسے ہی اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچے تو امیگریشن حکام نے انہیں اسی وقت حراست میں لے لیا، بعد ازاں مزید قانونی کارروائی کے لیے تمام افراد کو ایف آئی اے کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل اسلام آباد کے حوالے کر دیا گیا، جہاں ان سے تفصیلی تفتیش کی جا رہی ہے۔
ترجمان ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تمام مسافروں نے بیرون ملک پہنچنے کے لیے مختلف انسانی سمگلروں اور ایجنٹوں سے رابطہ کیا تھا اور انہیں فی کس 2 لاکھ روپے سے لے کر 12 لاکھ روپے تک کی خطیر رقم ادا کی تھی، ایجنٹوں نے ان افراد کو قانونی سفری طریقہ اختیار کرنے کے بجائے غیر قانونی اور انتہائی خطرناک راستوں سے ترکیہ کی سرحد عبور کروانے کی منصوبہ بندی کی۔
حکام نے بتایا ہے کہ غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے کی کوشش کے دوران ترکیہ کی پولیس نے ان افراد کو گرفتار کرلیا، جس کے بعد انہیں قانونی کارروائی مکمل ہونے پر پاکستان واپس بھیج دیا گیا، تفتیش کے دوران سامنے آنے والے شواہد اور متاثرہ افراد کے بیانات کی روشنی میں نامزد انسانی سمگلروں اور ایجنٹوں کی گرفتاری کیلئے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی جاری ہے اور ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کیلئے تمام قانونی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
حکام نے شہریوں کو ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ بیرون ملک روزگار یا بہتر مستقبل کے جھانسے میں آ کر غیر قانونی ذرائع اختیار کرنے سے گریز کریں کیونکہ ایسے راستے نہ صرف جان کے لیے خطرناک ثابت ہوتے ہیں بلکہ گرفتار ہونے، ڈیپورٹ کیے جانے اور قانونی کارروائی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
