بجلی کے نرخ میں اضافے سے صنعتوں کی بندش کا خدشہ


کراچی(قدرت روزنامہ) بجلی کے بجلی کے نرخ میں ممکنہ اضافے پر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اضافی مالی بوجھ صنعتی یونٹس کی بندش کا سبب بن سکتا ہے۔
کراچی چیمبر نے جولائی 2026 کیلئے مجوزہ 2.5182 روپے فی یونٹ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کو مسترد کردیا ہے۔ صدر کے سی سی آئی ریحان حنیف کا کہنا ہے کہ مجوزہ ایف سی اے کے ساتھ تقریباً 1.34 روپے فی یونٹ سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ بھی عائد کی گئی تو صنعتوں پر اضافی دباؤ بڑھ جائے گا۔
ان کے مطابق اگر دونوں ایڈجسٹمنٹس ستمبر کے بجلی کے بلوں میں شامل کردی گئیں تو ٹیکس سے پہلے صارفین پر تقریباً 3.86 روپے فی یونٹ اضافی بوجھ پڑے گا۔ موجودہ ریلیف ختم ہونے کی صورت میں مجموعی اضافی اثر 5 روپے فی یونٹ سے بھی تجاوز کرسکتا ہے۔
صدر کے سی سی آئی نے کہا کہ مہنگی بجلی صنعتی بحالی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے، جبکہ چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتیں اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہوسکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صنعتی یونٹس کے اخراجات بڑھنے سے صرف فیکٹریاں ہی نہیں بلکہ پوری صنعتی سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان مہنگی اور غیر یقینی بجلی کی قیمتوں کے ساتھ برآمدات پر مبنی معاشی ترقی حاصل نہیں کرسکتا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ نیپرا 27 اگست کو ہونے والی سماعت میں جولائی کے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کو مسترد کرے یا اس میں نمایاں کمی کی جائے۔
ریحان حنیف نے وزیراعظم شہباز شریف سے بھی مطالبہ کیا کہ صنعتی بجلی کے نرخوں اور ملکی برآمدات کے تحفظ کیلئے فوری طور پر اعلیٰ سطح کا اجلاس طلب کیا جائے تاکہ کاروباری اور صنعتی شعبے کو مزید مشکلات سے بچایا جاسکے۔
بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافے کے باعث پہلے ہی پیداواری لاگت میں اضافہ ہورہا ہے، ایسے میں مزید مالی بوجھ صنعتوں کیلئے مشکلات بڑھا سکتا ہے اور اس کے اثرات روزگار، پیداوار اور برآمدات پر بھی پڑنے کا خدشہ ہے۔

WhatsApp
Get Alert