عاصمہ جتک کے والد کا قتل: مولانا ہدایت الرحمٰن کا بلوچستان اسمبلی میں دھماکہ خیز خطاب، نواب ثناء اللہ زہری پر سنگین الزامات
وزیر داخلہ مستعفی ہوں، ڈی آئی جی اور ایس پی خضدار کو برطرف کیا جائے، اگر سب بے بس ہیں تو میں اسلحہ اٹھانے کے لئے تیار ہوں: رکن صوبائی اسمبلی

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)اسما جتک کے والد کے قتل کیس کے حوالے سے رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے بلوچستان اسمبلی میں دھماکہ خیز خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما نواب ثناء اللہ زہری پر سنگین الزامات عائد کر دیے۔ انہوں نے ایوان میں سوال اٹھایا کہ یہ طاقتور طبقہ کون ہے اور ان کا نام کیوں نہیں لیا جاتا؟ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اس تمام صورتحال کے ذمہ دار نواب ثناء اللہ زہری ہیں اور قاتل انہی کے گھر میں چھپے ہوئے ہیں۔
مولانا ہدایت الرحمٰن نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کوئی بات کرنے کے لئے تیار نہیں اور جو بھی سچ بات کرتا ہے اسے قتل کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے ایوان میں انکشاف کیا کہ عاصمہ جتک کے ماموں کے قاتل بھی نواب ثناء اللہ زہری ہیں۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا عاصمہ جتک کے والد کو بی ایل اے یا ٹی ٹی پی کے کارندوں نے قتل کیا ہے؟

پولیس اور انتظامیہ کی کارکردگی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمٰن نے مطالبہ کیا کہ ڈی آئی جی اور ایس پی خضدار کو فوری برطرف کیا جائے اور وزیر داخلہ بلوچستان کو اپنے عہدے سے مستعفی ہو جانا چاہیے۔ انہوں نے حکام سے سوال کیا کہ کیا صرف آئی جی پولیس کو طلب کرنے سے یہ مسئلہ حل ہو جائے گا؟ انہوں نے حکومتی اراکین کو چیلنج کیا کہ اگر وہ ایوان میں کوئی بات غلط کر رہے ہیں تو انہیں بتایا جائے۔ مولانا ہدایت الرحمٰن نے انتہائی سخت موقف اپناتے ہوئے انتباہ دیا کہ اگر سب بے بس ہو چکے ہیں تو وہ خود انصاف کے لیے اسلحہ اٹھانے کے لئے تیار ہیں۔
