سپریڈنٹ اڈیالہ جیل نے اپنی رپورٹ میں عمران خان کو قید تنہائی میں رکھنے اور غیرمساوی سلوک کی تردید کردی

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے جیل میں تین سال مکمل ، سپریڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے عمران خان کو قید تنہائی میں رکھنے کے پی ٹی آئی کے دعوی متعلق اہم رپورٹ سامنے آگئی، سپریڈنٹ جیل نے عمران خان کو قید تنہائی میں رکھنے اور امتیازی یا غیر مساوی سلوک کی تردید کردی ۔
ایکس پر صحافی ثاقب بشیر نے اپنی خبر شیئر کی جس کے مطابق سپریڈنٹ جیل کی رپورٹ کی حاصل تفصیلات کے مطابق ” جیلوں میں قید تنہائی کا نظام تقریباً ختم ہوچکا اب یہ رائج نہیں نا ہی عدالتیں طویل عرصے سے ایسی سزا دے رہی ہیں اڈیالہ جیل میں کوئی بھی قیدی بشمول عمران خان کو قید تنہائی میں نہیں رکھا گیا عمران خان کو سزا ہو چکی وہ قانون کے مطابق قید کاٹ رہے ہیں۔
ان کے ساتھ دوسرے قیدیوں کی طرح ہی قانونی سلوک کیا جا رہا ہے۔
ایکسکلوسیو : عمران خان کے جیل میں تین سال مکمل ، سپریڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے عمران خان کو قید تنہائی میں رکھنے کے پی ٹی آئی کے دعوی متعلق اہم رپورٹ سامنے آگئی
سپریڈنٹ جیل کی عمران خان کو قید تنہائی میں رکھنے اور امتیازی یا غیر مساوی سلوک کی تردید
سپریڈنٹ جیل کی رپورٹ کی حاصل…
— Saqib Bashir (@saqibbashir156) August 5, 2026
کوئی امتیازی یا غیر مساوی برتاؤ نہیں کیا جا رہا البتہ ان کے بہتر کلاس قیدی ہونے کی وجہ سے کچھ اضافی سہولیات فراہم کی گئی ہیں سابق وزیر اعظم اور سیاسی جماعت کے سربراہ کی حیثیت سے ان کے لیے سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات ہیں اسی لیے عام قیدیوں کو عمران خان کے رہائشی حصے تک رسائی نہیں دی جاتی عمران خان قید تنہائی نہیں انکو جو سہولیات حاصل ہیں ان سے بھی ظاہر ہوتا ہے یہ قیدی تنہائی نہیں۔
جیل سپریڈنٹ رپورٹ میں مزید کہتے ہیں کہ 7 سیل پر مشتمل کمپاؤنڈ میں دن بھر آزادانہ چل پھر سکتے ہیں صرف رات کے مخصوص اوقات میں بانی پی ٹی آئی اپنے سیل میں رہتے ہیں، جیل افسران اور عملہ عمران خان کی ضروریات کے حوالے سے وقتاً فوقتاً ان سے رابطے میں رہتا ہے مجھے بھی آگاہ کرتا ہے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل معمول کے مطابق ان سے ملاقات کرتا ہے ضرورت پڑنے پر خصوصی ملاقات بھی کرتا ہے جیل کے ڈاکٹر روزانہ تین مرتبہ ان کا معائنہ کرتے ہیں کھانے کی جانچ کرتے ہیں بلڈ پریشر ، دل کی دھڑکن اور آکسیجن سیچوریشن سمیت دیگر طبی علامات چیک کرتے ہیں اور ان کو بتایا بھی جاتا ہے ضرورت پڑنے پر عمران خان کا اضافی طبی معائنہ بھی کیا جاتا ہے۔
عمران خان کے لیے ایک کل وقتی سزا یافتہ قیدی مقرر ہے جو بانی کے منتخب کردہ مینو کے مطابق روزانہ تین وقت کا کھانا تیار کرتا ہے عمران خان کو قدرتی روشنی ، تازہ ہوا اور طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک ورزش کی سہولت حاصل ہے، جیل مینوئل کے مطابق عمران خان کی رازداری بھی یقینی بنائی گئی ہے وہ صبح لاک اَپ کھلنے سے شام لاک اَپ ہونے تک آزادانہ نقل و حرکت کر سکتے ہیں، دن بھر اپنی پسند کے مطابق سرگرمی کر سکتے ہیں ان کی قید کی جگہ محفوظ اور مکمل نگرانی میں ہے جہاں جیل عملہ مناسب تعداد میں موجود ہے میں اور جیل کے دیگر افسران ان کے قید کی جگہ کے حفاظتی انتظامات کا باقاعدگی سے جائزہ لیتے رہتے ہیں جیل قواعد کے مطابق عمران خان کو ہر منگل اپنی اہلیہ بشریٰ عمران سے ملاقات کی اجازت ہے۔
عمران خان پی ٹی آئی کو باقاعدگی سے اپنی پسند کے اخبارات اور کتابیں فراہم کی جاتی ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا فرینڈ آف کورٹ کے طور پر سلمان صفدر نے 10 فروری 2026 کو ان کے سیل کا معائنہ بھی کیا تھا سلمان صفدر نے بانی کی رہائشی اور قیدی حالات کا باریک بینی سے جائزہ لیا تھا رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی تھی عمران خان کی حراست اور رہائشی حالات مناسب اور اطمینان بخش ہیں، اور ان میں قید تنہائی کا معمولی سا بھی عنصر موجود نہیں درخواست گزار علیمہ خانم کے الزامات محض قیاس آرائی اور بے بنیاد ہیں لہٰذا استدعا ہے درخواست کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کیا جائے۔
