اگر سہیل آفریدی سمجھتے ہیں کہ وہ آئیں گے اور بغیراجازت ڈی چوک پر جائیں گے تو پھر ایسی کی تیسی پارٹ ٹو ہوگا

اگر آپ سرکاری وسائل استعمال کریں گے تو محسن نقوی کی وزارت داخلہ کا بھی ہاتھ کھلا ہوا ہے، وزیراعظم یا اسٹیبلشمنٹ اس پوزیشن میں نہیں کہ ڈنڈے کے زور پر مذاکرات کریں گے، تجزیہ کار منیب فاروق


اسلام آباد(قدرت روزنامہ) تجزیہ کار منیب فاروق کا کہنا ہے کہ اگر سہیل آفریدی سمجھتے ہیں کہ وہ آئیں گے اور بغیراجازت ڈی چوک پر جائیں گے تو پھر ایسی کی تیسی پارٹ ٹو ہوگا، جس طرح آپ سرکاری وسائل کا استعمال کریں گے، اسی طرح محسن نقوی کی وزارت داخلہ کا بھی ہاتھ کھلا ہوا ہے۔ انہوں نے اپنے وی لاگ میں کہا کہ علی امین گنڈاپور جب آئے تھے تو سوائے خیبرپختونخواہ کے کہیں سے لوگ نہیں آئے تھے،کیونکہ وہاں حکومت ہے، اب اگر آپ دوبارہ کوشش کرنا چاہتے ہیں ، جس طرح آپ تیار ہیں یا آپ کے پاس کچھ ہے، یا سرکاری وسائل کا استعمال کریں گے، ادھر محسن نقوی کی وزارت داخلہ کے پاس بھی بڑا کچھ ہے، بڑی ماریں کھائیں، بہت کچھ سیکھا ہے، ان کے پاس بھی بڑے ٹرینڈ لوگ ہیں، ان کا بھی ہاتھ کھلا ہوا ہے۔


نومبر 2024 بالکل اپنے سامنے دیکھا ہوا ہے۔ اگر وہ بدقسمت رویہ دوبارہ ہونا ہے تو دعا کروں گا کہ معاملات بہتر ہوجائیں، کوئی سیاسی حل نکل آئے، معاملات عمران خان اور ان کی جماعت کیلئے بہتر ہوجائیں۔
اگر ایسا نہیں ہوا، تو واضح کررہا ہوں کہ پھر فساد ہے۔ وزیراعظم شہبازشریف، وزیرداخلہ یا اسٹیبلشمنٹ اس پوزیشن میں نہیں کہ ڈنڈے کے زور پر مذاکرات کریں گے یا کسی کے سامنے لیٹ جائیں گے۔پھر ایسے بھی ہوسکتا ہے کہ جیسے علی امین گنڈا پور کا محسن نقوی سے رابطہ رہتا تھا، ایسے محسن نقوی کے بھی سہیل آفریدی سے رابطے ہوجائیں گے، کہ آجائیں فلاں جگہ احتجاج کرلیں۔ اگروہ سمجھتے ہیں کہ آئیں گے اور بغیر بتا کر آئیں گے اور ڈی چوک پرجانا ہے، تو پھر کھلی لڑائی ہے،ایسا نہیں کچھ نہیں ہوگا، پھر ایسی کی تیسی پارٹ ٹو ہوگا۔

WhatsApp
Get Alert