عمران خان کو ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے ہسپتال لائے جانے کی اطلاعات

اسلام آباد(قدرت روزنامہ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کو ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے ہسپتال لائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق صحافی صدیق جان نے دعویٰ کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ہائی بلڈ پریشر کے باعث پمز ہسپتال منتقل کیا گیا ہے اور وہ اس خبر کی مکمل ذمہ داری لیتے ہیں، اگر عمران خان کی بہنوں کی جانب سے آئندہ دو، تین روز میں اس خبر کی تصدیق نہیں کی جاتی تو وہ دونوں ذرائع کے نام سامنے لانے پر غور کر سکتے ہیں، تاہم فوری طور پر ذرائع ظاہر کرنا مناسب نہیں کیونکہ اس سے مزید معلومات حاصل ہونے کا سلسلہ متاثر ہوسکتا ہے۔
ہم پوری ذمہ داری سے یہ خبر دے رہے ہیں کہ عمران خان صاحب کو بلڈ پریشر ہائی ہونے کی وجہ سے پمز لایا گیا تھا،
اگر کسی کو لگتا ہے کہ یہ خبر غلط ہے تو وہ اس ویڈیو کو سیوو کر لے ، عمران خان کی صحت کے معاملے کو ایک نیو نارمل بنا دیا گیا ہے ، تفصیلات سن لیجیے 👇https://t.co/Tu9STr51OH— Siddique Jan (@SdqJaan) August 8, 2026
ایکس پر اپنی پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ بعض ٹوئٹر اکاؤنٹس کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ عمران خان کو بلڈ پریشر کی وجہ سے پمز ہسپتال منتقل کیے جانے کی خبر غلط ہے اور یہ خبر انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے فراہم کی گئی ہے، اس خبر کے دو ذرائع ہیں اور وہ پہلے ہی اپنے وی لاگ میں اس حوالے سے تفصیل بیان کر چکے ہیں، اگر عمران خان کی بہنوں کی جانب سے آئندہ دو، تین روز میں اس خبر کی تصدیق نہیں کی جاتی تو وہ دونوں ذرائع کے نام سامنے لانے پر غور کر سکتے ہیں۔
صدیق جان نے مزید کہا کہ ان کے اس بیان کو محفوظ کرلیا جائے تاکہ مستقبل میں اس کی بنیاد پر خبر کی تصدیق کی جاسکے، عمران خان کی صحت سے متعلق خبروں کو متنازع بنانا اب ایک معمول بنتا جا رہا ہے، جو انتہائی تشویشناک صورتحال ہے، کم از کم پی ٹی آئی قیادت اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت کو عمران خان کے اہلخانہ کے ساتھ بیٹھ کر ان کی صحت کے حوالے سے ایک مشترکہ اور واضح موقف اختیار کرنا چاہیے۔
کچھ ٹویٹر اکاؤنٹس کے مطابق ہم نے عمران خان صاحب کو بلڈ پریشر کی وجہ سے پمز لانے والی خبر جھوٹی دی ہے اور یہ خبر ہمیں انٹیلیجنس ایجنسیز کی طرف سے دی گئی ہے ، میں وی لاگ میں واضح کر چکا ہوں کہ اس خبر کے دو سورسز ہیں اور اگر عمران خان صاحب کی بہنوں نے دو تین دن میں اس خبر کو کنفرم…
— Siddique Jan (@SdqJaan) August 9, 2026
انہوں نے ماضی میں عمران خان کی آنکھ سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی بعض حلقوں کی جانب سے صحت سے متعلق خبر کو انٹیلی جنس اداروں کی اطلاعات قرار دیا گیا تھا، تاہم بعد میں آنکھ کی بیماری کی شدت سامنے آئی، عمران خان کی صحت کے معاملے پر سیاسی اختلافات اور اندرونی کشمکش کو اس حد تک نہیں پہنچنا چاہیے کہ ان کی زندگی اور صحت سے متعلق اہم معاملات پر بھی متعلقہ سیاسی قیادت ایک دوسرے سے مشاورت نہ کرے، عمران خان کی صحت کے معاملے پر اب واضح، ذمہ دارانہ اور مشترکہ موقف سامنے آنا چاہیے۔
