بلوچستان میں قومی شاہراہوں کی بندش کے باعث فضائی سفر مہنگا، کوئٹہ سے کراچی، اسلام آباد اور لاہور کے کرایوں میں ہوشربا اضافہ

زمینی راستے بند ہونے سے مسافروں کے لیے ہوائی سفر واحد متبادل بن گیا، کوئٹہ اور کراچی کے درمیان فضائی ٹکٹ کی قیمت 1 لاکھ 10 ہزار روپے تک پہنچ گئی


مسافروں اور کاروباری حلقوں کی حکومت سے اضافی پروازیں چلانے اور کرایوں کی سطح کا جائزہ لینے کی اپیل
کوئٹہ(قدرت روزنامہ)بلوچستان میں سکیورٹی خدشات کے باعث قومی شاہراہوں پر زمینی سفر متاثر ہونے اور کوئٹہ سے کراچی، اسلام آباد اور لاہور جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کے بعد فضائی سفر عوام کے لیے مزید مہنگا ہوگیا ہے۔ زمینی سفری سہولیات محدود ہونے کے باعث مسافروں کی بڑی تعداد نے ہوائی سفر کا رخ کیا تو پروازوں کے کرایوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے مسافروں اور ٹریول ایجنٹس کے مطابق کوئٹہ سے کراچی اور کراچی سے کوئٹہ کے فضائی ٹکٹ کی قیمتیں بعض پروازوں میں ایک لاکھ سے ایک لاکھ 10 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہیں، جبکہ کوئٹہ سے اسلام آباد کے ٹکٹ بھی تقریبا ایک لاکھ روپے تک فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اسی طرح کوئٹہ سے لاہور جانے والے مسافروں کو بھی ہوائی ٹکٹ کے لیے 80 سے 85 ہزار روپے تک ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔
مسافروں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی صورتحال کے باعث جب سڑک کے ذریعے سفر مشکل یا محدود ہوا تو ہوائی سفر ہی فوری آمدورفت کا اہم ذریعہ رہ گیا، جس کے نتیجے میں محدود نشستوں اور بڑھتی طلب کے باعث فضائی کرایوں میں تیزی سے اضافہ ہوا پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کی فلائٹ شیڈول ویب سائٹ پر 15 اگست 2026 کو کوئٹہ سمیت بڑے شہروں کے درمیان پروازوں کا شیڈول موجود ہے، تاہم دستیاب شیڈول اور مسافروں کی جانب سے بتائی جانے والی ٹکٹ قیمتیں الگ معاملات ہیں زمینی راستے بند، مسافروں کے لیے فضائی سفر واحد متبادل بن گیا۔
سکیورٹی خدشات کے باعث کوئٹہ سے کراچی، لاہور اور اسلام آباد سمیت مختلف شہروں کے درمیان پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش یا محدود ہونے سے روزمرہ سفر کرنے والے شہری شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ کاروباری افراد، طلبہ، مریضوں کے لواحقین، سرکاری ملازمین اور دیگر ضروری کاموں کے لیے سفر کرنے والے افراد کو اب فضائی سفر پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے خاص طور پر کوئٹہ اور کراچی کے درمیان سفر کرنے والے شہریوں کے لیے زمینی راستہ طویل عرصے سے بنیادی ذریعہ آمدورفت رہا ہے۔
بس سروسز کی معطلی کے بعد جن مسافروں کے لیے سفر ناگزیر ہے، انہیں مہنگے فضائی ٹکٹ خریدنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے مسافروں کا کہنا ہے کہ ایک طرف سکیورٹی صورتحال نے انہیں زمینی سفر سے محروم کردیا ہے اور دوسری جانب ہوائی ٹکٹوں کی قیمتیں عام شہری کی پہنچ سے باہر ہوتی جارہی ہیں۔ ایک خاندان کے کئی افراد کو سفر کرنا ہو تو صرف ٹکٹوں کی مد میں لاکھوں روپے خرچ ہونے کا خدشہ ہے کوئٹہ، کراچی اور اسلام آباد کے ٹکٹ لاکھوں کے قریب پہنچ گئیٹریول ایجنٹس اور مسافروں کے مطابق کوئٹہ سے کراچی اور کراچی سے کوئٹہ کے بعض ٹکٹ ایک لاکھ سے ایک لاکھ 10 ہزار روپے تک پہنچ گئے ہیں۔
کوئٹہ سے اسلام آباد کا فضائی کرایہ بھی تقریبا ایک لاکھ روپے تک بتایا جارہا ہے، جبکہ کوئٹہ سے لاہور جانے والے مسافروں کو 80 سے 85 ہزار روپے تک کے ٹکٹ ملنے کی اطلاعات ہیں یہ قیمتیں معمول کے کرایوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ بتائی جارہی ہیں۔ تاہم ٹکٹ کی قیمت تاریخ، پرواز، نشستوں کی دستیابی، بکنگ کے وقت اور ایئرلائن کے کرایہ جاتی نظام کے مطابق تبدیل ہوسکتی ہے قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے ایک حالیہ سرکاری جواب کے مطابق 2026 میں بعض ملکی فضائی روٹس پر کرایوں میں نمایاں اتار چڑھا دیکھا گیا اور ایئرلائنز نے مارکیٹ کی طلب، اضافی گنجائش اور مسابقت جیسے عوامل کو کرایوں پر اثرانداز ہونے والے عناصر میں شمار کیا موجودہ صورتحال میں بلوچستان کے مسافروں کا مقف ہے کہ جب زمینی راستے محدود ہوں تو ایئرلائنز کو اضافی پروازیں چلانے اور نشستوں کی تعداد بڑھانے کے اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ مسافروں کو مناسب نرخوں پر سفر کی سہولت میسر آسکے مسافروں نے فضائی ٹکٹوں میں اچانک اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومت، متعلقہ ہوا بازی حکام اور ایئرلائنز سے صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے شہریوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اگر زمینی سفر محدود کیا جاتا ہے تو حکومت کو متبادل سفری سہولیات بھی یقینی بنانی چاہئیں۔
مسافروں کے مطابق سڑکوں پر سفر کی پابندی کے بعد اگر ہوائی سفر بھی عام شہری کی مالی استطاعت سے باہر ہوجائے تو بلوچستان کے عوام کے لیے ملک کے دیگر حصوں تک رسائی مزید مشکل ہوجاتی ہیکاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ کوئٹہ اور کراچی کے درمیان فضائی اور زمینی رابطہ بلوچستان کی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ کراچی ملک کی بڑی تجارتی منڈی اور بندرگاہی مرکز ہونے کے باعث بلوچستان کے تاجروں کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے، جبکہ اسلام آباد اور لاہور سے سرکاری، کاروباری اور تعلیمی روابط بھی بڑی تعداد میں قائم ہیں سکیورٹی صورتحال کے باعث سفری پابندیوں سے نہ صرف عام مسافر بلکہ تجارت، کاروبار اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اگر زمینی راستوں کی بندش طویل ہوتی ہے تو اس کے اثرات بلوچستان کی معیشت اور عام شہریوں کے اخراجات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
مسافروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ایک طرف آمدنی کے محدود ذرائع اور مہنگائی نے پہلے ہی گھریلو بجٹ متاثر کررکھا ہے، جبکہ دوسری جانب ایک شہر سے دوسرے شہر جانے کے لیے ہوائی ٹکٹ پر 80 ہزار سے ایک لاکھ روپے یا اس سے بھی زیادہ رقم خرچ کرنا عام شہری کے لیے انتہائی مشکل ہے۔ خاص طور پر وہ خاندان جنہیں علاج، تعلیم، کاروبار یا کسی ہنگامی ضرورت کے تحت سفر کرنا پڑتا ہے، ان کے لیے موجودہ کرایے شدید مالی بوجھ بن رہے ہیں مسافروں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایئرلائنز کو موجودہ صورتحال کے پیش نظر اضافی پروازیں چلانے کی ہدایت کی جائے، نشستوں کی دستیابی بڑھائی جائے اور کرایوں کی غیر معمولی سطح کا جائزہ لیا جائے تاکہ سکیورٹی صورتحال سے پہلے ہی مشکلات کا شکار شہری مزید مالی مشکلات سے دوچار نہ ہوں۔
مسافروں اور شہری حلقوں کی جانب سے اس صورتحال پر صوبائی حکومت اور بلوچستان اسمبلی کی خاموشی پر بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جب صوبے کے بڑے شہروں کے درمیان زمینی رابطہ متاثر ہو اور متبادل فضائی سفر انتہائی مہنگا ہوجائے تو صوبائی حکومت کو عوامی مشکلات کے ازالے کے لیے وفاقی حکومت، سول ایوی ایشن حکام اور ایئرلائنز کے ساتھ فوری رابطہ کرنا چاہیے شہریوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت موجودہ سفری بحران کے حوالے سے واضح پالیسی سامنے لائے اور عوام کو بتایا جائے کہ قومی شاہراہوں پر سفری پابندیاں کب تک رہیں گی، پبلک ٹرانسپورٹ کب بحال ہوگی اور اس دوران مسافروں کے لیے متبادل سفری سہولیات کس طرح فراہم کی جائیں گی بلوچستان کے عوام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی یقینی بنانا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔
تاہم سکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ شہریوں کی بنیادی سفری ضروریات اور معاشی مشکلات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے موجودہ صورتحال میں ایک جانب قومی شاہراہوں پر سفر محدود ہونے سے عوام زمینی ذرائع سے محروم ہیں جبکہ دوسری جانب ہوائی سفر کے بڑھتے کرایوں نے مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر صورتحال کا نوٹس لے، ایئرلائنز سے کرایوں کی تفصیلات طلب کرے، اضافی پروازوں کے انتظامات کرے اور پبلک ٹرانسپورٹ کی بحالی کے لیے سکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر مثر حکمت عملی مرتب کرے جبکہ ٹور اینڈ ٹریول ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ کرایہ جہاز کمپنیوں کی طرف سے بڑھایا گیا ہے۔
write English news With headline

WhatsApp
Get Alert