علی حسن زہری کی اختر مینگل پر کڑی تنقید، پہاڑوں پر موجود افراد کو سرینڈر کرنے کی اپیل


حب(قدرت روزنامہ)حب پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما علی حسن زہری نے حب میں جشنِ آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سردار اختر مینگل اور ان کی سیاست کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ تقریب کے دوران انہوں نے سردار اختر مینگل کی تقریر چلاتے ہوئے سوال اٹھایا کہ بلوچستان کے سیاسی لوگوں کو غدار کیسے کہا گیا۔ علی حسن زہری نے الزام عائد کیا کہ اختر مینگل کی فنڈنگ بند ہو چکی ہے، وہ خود دبئی میں مقیم ہیں مگر غریب کے بچوں کو پہاڑوں پر بھیج رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب اختر مینگل پاکستان سے باہر گئے تو انہوں نے دبئی میں ریکوڈک کے 40 ارب روپے لیے، ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھایا کہ ان کے جلسوں میں گاڑیاں کس نے فراہم کیں۔
انہوں نے کہا کہ اختر مینگل کو چاہیے کہ وہ سیاست کریں مگر پیپلز پارٹی پر بے بنیاد تنقید سے گریز کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اختر مینگل کی پارٹی کا جنازہ نکل چکا ہے اور وہ پارٹی میں اکیلے رہ گئے ہیں۔ انہوں نے یہ سنگین الزام بھی لگایا کہ اختر مینگل نے مودی کے بندوں سے پاکستان کے خلاف میٹنگ کی ہے۔ صدر آصف علی زرداری سے متعلق بات کرتے ہوئے علی حسن زہری نے کہا کہ زرداری ہمارے باپ اور بھائی محسن کی مانند ہیں، لہٰذا ان کے بارے میں الفاظ کا انتخاب درست کیا جائے۔
علی حسن زہری نے مزید کہا کہ سردار عطا اللہ مینگل جب ایم این اے بنے تو انہوں نے کہا تھا کہ وہ پنجاب نہیں جائیں گے، لیکن اختر مینگل نے اپنی بیٹی کا رشتہ پنجابیوں میں دیا ہے، پھر وہ کس بنیاد پر پنجابیوں کے خلاف لڑنے کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اختر مینگل کو اب کوئی پوچھتا نہیں، اسی لیے وہ پیپلز پارٹی کے خلاف اس قسم کی زبان استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صدر آصف زرداری پچھلے سات ماہ سے رات بھر سوئے نہیں اور تمام معاملات ان کے مشورے سے طے پا رہے ہیں۔
پاک فوج کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ فوج ہمارے لیے قابلِ احترام ہے اور جنرل عاصم منیر جیسا جنرل دوبارہ نہیں ملے گا، جبکہ سعودی عرب اور قطر سمیت دنیا بھر میں پاکستان کی فوج کو سراہا جا رہا ہے۔ سیاسی مستقبل پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کے ڈھائی سال مکمل ہونے کے بعد بلاول بھٹو زرداری اگلے ڈھائی سال کے لیے ملک کے وزیرِ اعظم بنیں گے۔
تقریب سے خطاب میں انہوں نے پہاڑوں پر موجود لوگوں سے واپس آنے کی اپیل کی اور کہا کہ غریب مسافروں کو لوٹنے اور پل توڑنے سے پاکستان نہیں ٹوٹے گا۔ نوشکی بارڈر سے افغانستان سے دہشت گرد آکر بلوچستان میں کارروائیاں کرتے ہیں، جبکہ باہر بیٹھنے والے غریب بلوچوں کو آپس میں لڑوا رہے ہیں۔ انہوں نے تنبیہ کی کہ پہاڑوں پر جانے والے سرینڈر کر دیں اور واپس آ کر روزگار و تعلیم حاصل کریں، ورنہ اگلے دو تین ماہ میں بلوچستان میں آپریشن ضرور ہوگا، کیونکہ پاکستان ہے تو بلوچستان ہے۔

WhatsApp
Get Alert