دنیا کا ہر ایک جھوٹا پی ٹی آئی میں بیٹھا ہے، یہ عجیب قسم کے لوگ ہیں، اختیار ولی


اسلام آباد (قدرت روزنامہ) وزیراعظم کے معاونِ خصوصی اختیار ولی خان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے ارکان اور کارندے عمران خان کو بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح سے بھی بڑا لیڈر سمجھتے ہیں اور یہ لوگ دو قومی نظریئے کو بھی نہیں مانتے، دنیا کا ایک ایک جھوٹا پاکستان تحریک انصاف میں بیٹھا، بیرسٹر گوہر، علی ظفر، عمیر نیازی، اسد قیصر جیسے محب وطن لوگ اس جماعت میں بیٹھے کیسے ہیں؟۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اختیار ولی خان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے کارندے ملک دشمن ہر تحریک کا حصہ بننے سے گریز نہیں کرتے اور وہ مسلسل 9 مئی کی کارروائیوں کا سلسلہ آگے بڑھانے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں، پی ٹی آئی والے ‘خان نہیں تو پاکستان نہیں’ کے نعرے لگاتے ہیں، عمران خان کا موازنہ قائد اعظم سے کرتے ہیں اور علامہ اقبال کے خواب کا مذاق اڑاتے ہیں، آخر یہ لوگ کون ہیں اور ملک میں کیا چاہتے ہیں؟۔
انہوں نے پی ٹی آئی کے دورِ حکومت پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو جب اقتدار میں آئے تو انہوں نے وزیراعظم ہاؤس کے دوسرے فلور کو ڈانس فلور بنا دیا جہاں شراب اور رقص کی محفلیں سجتی تھیں اور جادو ٹونے کا الگ انتظام قائم کیا گیا تھا، جب بھارت کا حملہ یا تنازعہ سامنے آتا ہے تو یہ یہ تک کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے ٹینکوں میں تیل ہی موجود نہیں ہے۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی کا کہنا ہے کہ یوم آزادی کے دن احتجاج کون کرتا ہے، اس پر تکلیف تو بھارت کو پاکستان کے دشمن کو ہے، یہ لوگ آزادی منانے کے بجائے احتجاج کررہے ہیں، مولانا نسیم شاہ نے کہا علامہ اقبال نے ایک خواب دیکھا اس کے 80 سال بعد تک ہم تکلیف میں ہیں، تمام سیاسی جماعتوں سے کہتا ہوں ان کے کرتوتوں پر نظر ڈالیں، یہ ہاتھ ملانے کے قابل نہیں، ان کے ساتھ تو ایک دسترخوان پر کھانا کھانا مناسب نہیں، آپ ان کے ساتھ اکٹھا ہوں گے؟۔
اپنی پریس کانفرنس کے دوران خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ 15 سالوں سے خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے اور ریاستِ مدینہ و نئے پاکستان کا نعرہ لگاتے لگاتے وہاں منشیات کے سوداگر، سمگلرز اور آئس کا کاروبار کرنے والے مافیا کے لوگ حکمران بن چکے ہیں، جن کے پاس کھانے کے پیسے نہیں ہوتے تھے، آج وہ کانٹینینٹل ہوٹلوں کے مالک بن چکے ہیں۔

WhatsApp
Get Alert