سوراب کا واقعہ قابلِ مذمت ہے، صوبے کو سنجیدگی سے توجہ کا مرکز بنا کر بنیادی مسائل حل کیے جائیں:بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے وفاقی حکومت کے سامنے 17 نکات رکھے ہیں،ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ

نئے صوبوں کا قیام ملک کو مزید پسماندگی کی جانب دھکیل دے گا، کسی فرد کی خواہش پر صوبے بنانے کی مخالفت کریں گے: میر احمد مری کی 60 خاندانوں کے ہمراہ نیشنل پارٹی میں شمولیت، پارٹی کو مزید منظم کرنے کا اعلان


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) سابق وزیراعلی بلوچستان اور نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ نیشنل پارٹی موجودہ گھمبیر حالات میں اپنی سیاسی و جمہوری جدوجہد جاری رکھتے ہوئے پارٹی کو مزید منظم کرے گی، جبکہ نئے صوبوں کا قیام ملک کو مزید پسماندگی کی جانب دھکیل دے گا، صوبے تاریخی بنیادوں اور زمینی حقائق کے مطابق بنائے جانے چاہئیں، کسی فرد یا ادارے کی خواہش پر نہیں۔کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ میر احمد مری نے اپنی برادری، دوستوں اور عزیزوں سمیت 60 خاندانوں کے ہمراہ نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے، جنہیں وہ پارٹی میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی کی عوام دوست پالیسیوں سے متاثر ہوکر مختلف اقوام اور طبقات پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں اور مستقبل میں مزید لوگ نیشنل پارٹی کا حصہ بنیں گے۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی ملک کو درپیش مشکلات سے نکالنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور پارٹی اقتدار یا وزارتوں کے پیچھے نہیں بھاگتی۔ نیشنل پارٹی کو ماضی میں بھی وزارتوں کی پیشکش ہوتی رہی، تاہم پارٹی نے ہمیشہ اصولی سیاست کو ترجیح دی۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں بمباری کے خدشات پہلے سے موجود تھے، جبکہ سوراب کا واقعہ قابلِ مذمت ہے۔ موجودہ گھمبیر صورتحال میں عوام کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہوگیا ہے اور دونوں جانب سے خطرات موجود ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان کو سنجیدگی سے توجہ کا مرکز بنا کر یہاں کے بنیادی مسائل حل کیے جائیں۔
نئے صوبوں کے قیام سے متعلق انہوں نے کہا کہ ملک میں نئے صوبے بنانے کی باتیں کی جارہی ہیں، لیکن بتایا جائے کہ نئے صوبوں کا مطالبہ کس نے کیا ہے۔ نیشنل پارٹی صوبوں کی تقسیم کے خلاف ہے اور اس معاملے پر مذمت کے ساتھ مزاحمت بھی کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے تاریخ، ثقافت اور زمینی حقائق کی بنیاد پر بنائے جائیں، کسی فرد یا ادارے کی خواہش پر نہیں۔سابق وزیراعلی نے کہا کہ جب بھی مقتدر حلقوں کی جانب سے دبا آتا ہے تو نئے صوبوں کے قیام کی باتیں شروع ہوجاتی ہیں، سیاست دانوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے بھی اس معاملے کو زیر بحث لایا جاتا ہے، ایسے اقدامات ملک کو مزید پسماندگی کی طرف دھکیلیں گے۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی نے وفاقی حکومت کے سامنے بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے 17 نکات رکھے ہیں اور ان مطالبات کے حصول کے لیے سیاسی و جمہوری جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے زمینداروں کے حوالے سے کہا کہ بلوچستان کے زمینداران صوبے میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اقتدار اور حزب اختلاف کی صورتحال مستقل نہیں، جو آج اقتدار میں ہیں وہ کل جیل میں تھے اور جو آج جیل میں ہیں وہ کل اقتدار میں ہوسکتے ہیں، اس لیے ملک کو مستقل سیاسی استحکام اور سنجیدہ پالیسیوں کی ضرورت ہے۔

WhatsApp
Get Alert