یادگارِ فتح کی تقریب میں وزرائے اعلیٰ کی عدم شرکت سے متعلق حقائق سامنے آگئے
سندھ اور بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ صوبوں کی تقریبات میں مصروف تھے، سہیل آفریدی شاید احتجاج اور ریلیوں میں شرکت کو سرکاری تقریب میں شریک ہونے پر ترجیح دے رہے تھے؛ اینکر پرسن منیب فاروق کی ایکس پر پوسٹ

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)اینکرپرسن اور تجزیہ کار منیب فاروق نے اسلام آباد میں یادگارِ فتح کی افتتاحی تقریب میں صرف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی شرکت اور دیگر تینوں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کی عدم موجودگی پر وفاقی حکومت پر کی جانے والی تنقید پر حقائق واضح کر دیئے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر منیب فاروق نے اپنے ایک بیان میں وفاقی حکومت کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اس خبر میں کوئی سچائی نہیں کہ دیگر صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو نظرانداز کیا گیا، انہوں نے تصدیق کی کہ اسلام آباد میں منعقدہ یادگارِ فتح کی باوقار تقریبِ افتتاح کے لیے تمام چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو باضابطہ دعوت نامے ارسال کیے گئے تھے۔
Criticism has been levelled against the Federal Govt over the absence of three of the four Chief Ministers from the inauguration of Yaadgar-e-Fatah, with only CM Punjab Maryam Nawaz Sharif in attendance.
Fact Check!
ALL the Four Chief Ministers were invited.
The CMs of…
— Muneeb Farooq (@muneebfaruqpak) August 17, 2026
وزرائے اعلیٰ کی غیر حاضری کی وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے منیب فاروق نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ اور وزیراعلیٰ بلوچستان اپنے اپنے صوبائی دارالحکومتوں میں پہلے سے طے شدہ یومِ آزادی اور دیگر سرکاری تقاریب میں مصروفیت کے باعث اسلام آباد کا سفر نہیں کر سکے تھے۔
انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ جہاں تک وزیراعلیٰ کے پی کا تعلق ہے تو شاید سہیل آفریدی سرکاری و قومی نوعیت کی تقریب میں شرکت کرنے کے بجائے اسلام آباد میں احتجاج، دھرنوں اور جلسے جلوسوں میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے، تاہم اس معاملے پر وفاقی حکومت پر تنقید بے بنیاد ہے کیونکہ چاروں وزرائے اعلیٰ کو مدعو کیا گیا تھا۔
