یہ پاکستان ہے ڈیئر! یہاں کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے، حامد میر
2019ء میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایک سزایافتہ مجرم نواز شریف جیل سے باہر آجائے گا اور اس کی سزا ختم ہو جائے گی، اگر نواز شریف جیل سے باہر آ سکتا ہے تو پھر کوئی اور بھی باہر آ سکتا ہے؛ سینئر صحافی کا کالم

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)نامور سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے اپنے حالیہ کالم میں مسلم لیگ ن کی جانب سے عمران خان کو ملنے والے عدالتی ریلیف پر تنقید کو شدید نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وطنِ عزیز میں تاریخ ہمیشہ اپنے آپ کو دہراتی ہے اور ن لیگ کا اس معاملے پر پریشان ہونا سمجھ سے بالاتر ہے۔ حامد میر لکھتے ہیں کہ مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کو ماضی کے وہ واقعات نہیں بھولنے چاہئیں جب نواز شریف کو العزیزیہ سٹیل ملز کیس میں سزا سنائی گئی تھی، اگر عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں 14 سال قید کی سزا ملی تو کیا نواز شریف کو العزیزیہ اسٹیل ملز کیس میں سات سال قید کی سزا نہیں ملی تھی؟ کیا اس سزا کے باوجود عدالتوں نے نواز شریف کو جیل سے اسپتال منتقل کرنے کا حکم نہیں دیا تھا؟ کیا انہی عدالتوں نے کچھ میڈیکل رپورٹس کو سامنے رکھتے ہوئے نواز شریف کو علاج کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں دی تھی؟ کیا اس سے پہلے کوئی ایسی مثال موجود تھی کہ کسی سزایافتہ مجرم کو علاج کیلئے لندن جانے کی اجازت مل گئی؟۔
انہوں نے ن لیگ کے سینیٹر ناصر بٹ کا نام لیے بغیر ان کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے تنبیہ کی کہ عدالتی فیصلے کے پیچھے سازش تلاش کرنے سے گریز کیا جائے، سینیٹر صاحب کو چاہیے کہ وہ ہر جج کو ارشد ملک نہ سمجھیں کیونکہ ہر جج کی ویڈیو نہیں بن سکتی، اس نوعیت کے بیانات مسلم لیگ ن کو کسی گہری سیاسی کھائی میں دھکیل سکتے ہیں، سال 2019ء میں کوئی شخص تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ سزا یافتہ ہونے کے باوجود نواز شریف جیل سے باہر آئیں گے اور ان کی سزا ختم ہو جائے گی، اگر نواز شریف کے لیے یہ ممکن ہو سکتا ہے تو پھر کسی اور سیاسی رہنما کے لیے بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ پاکستان ہے ڈیئر! اور یہاں کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
