’شہبازشریف نے تو کمرہ عدالت میں سینیٹ الیکشن کی ٹکٹوں پر بھی دستخط کیے تھے‘

آج آپ کہہ رہے ہیں عمران خان سے ملاقات کرکے آنے والا کوئی سیاسی پیغام نہیں دے سکتا، آج تو عمران خان کو عدالت لایا ہی نہیں جاتا اور یہ کہتے ہیں ان کی اور عمران خان کی جیل برابر ہے؛ اینکرپرسن اسداللہ خان


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)اینکرپرسن اور تجزیہ کار اسد اللہ خان نے شریف خاندان اور عمران خان کو ملنے والی جیل کی سہولیات کے تقابل کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں کے حالات میں کوئی موازنہ بنتا ہی نہیں ہے۔ اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اسد اللہ خان نے کہا کہ آج حالت یہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو عدالت لایا ہی نہیں جاتا، جبکہ دوسری طرف ان پر یہ سخت پابندی عائد ہے کہ وہ جیل سے کوئی سیاسی پیغام یا گفتگو باہر نہیں بھیج سکتے، اس کے برعکس ماضی میں جب شہباز شریف کوٹ لکھپت جیل سے نیب عدالت لائے جاتے تھے، تو ان کے لیے حالات بالکل مختلف ہوا کرتے تھے۔


اسد اللہ خان نے بطور چشم دید گواہ عدالت کے اندرونی واقعات بیان کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ جب شہباز شریف عدالت میں پیش ہوتے تو جج سے وکیل نہ آنے کا کہہ کر سماعت ملتوی کرواتے، جیسے ہی جج صاحب جانے لگتے تو شہباز شریف ان سے درخواست کرتے کہ عملے کو کہیں کہ مجھے ابھی واپس نہ لے جائیں کیونکہ میں نے اپنے رفقاء سے گفتگو کرنی ہے، عدالت ان کی درخواست پر حکم دیتی اور وہ دو دو گھنٹے تک کمرہ عدالت میں بیٹھ کر سیاسی میٹنگز کیا کرتے تھے۔
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ شہباز شریف نے نیب کے اسی کمرہ عدالت میں بیٹھ کر سینیٹ انتخابات کے لیے پارٹی ٹکٹوں پر دستخط بھی کیے تھے، جس کا وہ خود اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر چکے ہیں، اب ان تمام حقائق کے ہوتے ہوئے یہ دعویٰ کیسے کیا جا سکتا ہے کہ عمران خان اور شریف خاندان کو جیلوں میں ایک جیسا ماحول اور سہولیات میسر ہیں یا مہیا رہی ہیں؟ جو موازنہ کیا جاتا ہے کہ نوازشریف فیملی اور عمران خان کی جیل کا تو اس کا کوئی موازنہ بنتا ہی نہیں ہے۔

WhatsApp
Get Alert