محمود خان کی گاڑی پر جھنڈا پاکستان کالگاہے تقایر جھنڈے کا خلاف کر تاہے ، یہ دوغلی پالیسی ہے ملک اور وطن ایک ہوتا ہے ،ہماراملک پاکستان ہے وطن بھی پاکستان ہے سرداراختر مینگل نے ایک پنجابی کی قتل کی بھی مذمت نہیں کی ؟ محمود خان اورسرداراختر مینگل کی سیاست ذاتی مفاد کیلئے ہے، میر ضیا لانگو

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا لانگو نے کہا ہے کہ 14 اگست پاکستان کی آزادی کا دن ہے اور آزادی اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے، اس لیے ان کی خواہش تھی کہ وہ قلات جا کر اپنے لوگوں کے ساتھ جشنِ آزادی منائیں اور پاکستان کا سبز ہلالی پرچم بلند کریں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا مقصد قلات جیسے تاریخی شہر میں یومِ آزادی کے موقع پر خوف و ہراس پیدا کرنا اور پاکستان کا پرچم بلند ہونے سے روکنا تھا، تاہم ریاستی عزم کے سامنے دہشت گرد اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکے ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر داخلہ عید ضیالہوں میں ایک کوڈکاسٹ کو تفصیلی دیتے ہوئے کیا اپنے تفصیلی انٹرویو میں صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان کا جھنڈا ہمیں اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ اگر کوئی دشمن ایٹم بم لے کر بھی پاکستان کے پرچم کو روکنے کے لیے آئے تو ہم اسے اپنے سینے سے لگائیں گے اور قومی پرچم کو بلند رکھیں گے میر ضیا لانگو نے بتایا کہ وہ 14 اگست کو قلات گئے، وہاں جشنِ آزادی کی تقریب میں شرکت کی اور پاکستان کا پرچم بلند کیا۔ ان کے مطابق دہشت گردوں کی کوشش تھی کہ قلات میں یومِ آزادی کے موقع پر ایسی کارروائی کی جائے جس سے لوگوں میں خوف پیدا ہو اور قومی پرچم بلند نہ ہوسکے، لیکن حکومت اور عوام نے ان کے عزائم ناکام بنا دیے صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کی ایک لہر موجود ہے جس کے نتیجے میں معصوم شہریوں اور اہلکاروں کی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق اس دہشت گردی کے پیچھے بیرونی معاونت کے شواہد اور الزامات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، تاہم ریاست دہشت گردی کے مقابلے میں عوام کے تحفظ اور امن کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کرے گی میر ضیا لانگو نے قلات سے واپسی کے دوران پیش آنے والے دہشت گرد حملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ کوئٹہ کا پولیس اسٹاف، اے ٹی ایف اہلکار، ذاتی سکیورٹی گارڈز اور مسلح گاڑی موجود نہیں تھی۔ انہوں نے بتایا کہ وقت کی کمی اور سرکاری ہیلی کاپٹر کی مصروفیت کے باعث انہیں قلات سے واپسی پر سڑک کے ذریعے سفر کرنا پڑا انہوں نے کہا کہ وہ قلات میں پروگرام ختم ہونے کے بعد ایس پی قلات کی گاڑی میں روانہ ہوئے۔ ان کے مطابق سرکاری ہیلی کاپٹر وزیراعلی بلوچستان کی مصروفیات کے باعث دستیاب نہیں تھا اور میں گوادر سے مصروفیات مکمل کرکے واپس کوئٹہ پہنچا تھا جس کی وجہ سے اگلے روز قلات جانے اور واپس آنے کے لیے محدود وقت دستیاب تھا صوبائی وزیر داخلہ کے مطابق قلات سے واپسی پر ایک ایسے مقام کے قریب دہشت گردوں نے ان کے قافلے کو نشانہ بنایا جہاں پہاڑی علاقہ موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد پہاڑ سے نیچے آکر باغات میں چھپ گئے اور وہاں سے پولیس قافلے پر فائرنگ کی، جس کے فورا بعد دھماکا بھی کیا گیا میر ضیا لانگو نے بتایا کہ ان کے قافلے میں پولیس کی متعدد گاڑیاں شامل تھیں۔ دہشت گردوں کی فائرنگ اور دھماکے سے پیچھے آنے والی پولیس کی دو گاڑیاں متاثر ہوئیں اور اہلکار زخمی ہوئے ان کے مطابق فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا اور انہیں علاقے سے فرار ہونے پر مجبور کردیا۔ زخمی پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی علاج کے بعد زخمیوں کو مزید علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کردیا گیا صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گرد پہاڑی علاقوں میں چھپ کر شہریوں اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر دہشت گرد اپنے آپ کو کسی نظریے یا حقوق کی جدوجہد سے وابستہ قرار دیتے ہیں تو انہیں سامنے آکر مقابلہ کرنا چاہیے، نہ کہ باغات اور پہاڑوں میں چھپ کر فائرنگ اور دھماکے کیے جائیں میر ضیا لانگو نے کہا کہ قلات اور دیگر علاقوں میں ایسے مقامات موجود ہیں جہاں دہشت گردی کے واقعات کے باعث عام لوگوں کی آمدورفت متاثر ہوتی ہے اور خواتین، بزرگوں اور دیگر شہریوں کے لیے سفر مشکل بن جاتا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو محفوظ ماحول فراہم کرے اور ان علاقوں کو دہشت گردوں سے پاک کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بعض علاقوں میں کئی دن تک کرفیو بھی نافذ رہا، کیونکہ سکیورٹی صورتحال انتہائی حساس تھی صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت نے طویل عرصے تک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز پر زیادہ انحصار کیا تاکہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں عام شہریوں کو کم سے کم نقصان پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد بعض علاقوں میں عام آبادی کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر آپریشن میں شہریوں کے نقصان کا خدشہ بڑھ جاتا ہے تاہم میر ضیا لانگو کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کی جانب سے عام شہریوں، خواتین، بزرگوں اور مقامی لوگوں کو مسلسل تنگ کرنے اور ان کی زندگی اجیرن بنانے کے بعد اب یہ وقت آگیا ہے کہ عوام کو دہشت گردی سے نجات دلانے کے لیے مزید مثر اقدامات کیے جائیں انہوں نے کہا کہ ریاست عام شہریوں کو نقصان پہنچائے بغیر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی حکمت عملی اختیار کرے گی اور جہاں ضرورت ہوگی وہاں سکیورٹی آپریشنز بھی کیے جائیں گے ان کا کہنا تھا کہ حکومت عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور قلات سمیت بلوچستان کے تمام علاقوں میں امن و امان کی بحالی کے لیے اقدامات جاری رکھے گی صوبائی وزیر داخلہ نے دہشت گرد تنظیموں کے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں جاری دہشت گردی کو آزادی کی جنگ قرار دینا درست نہیں۔ ان کے مطابق چند مسلح کمانڈرز نے نوجوانوں کو گمراہ کرکے انہیں ریاست اور اپنے ہی لوگوں کے خلاف استعمال کیا ہے میر ضیا لانگو نے دعوی کیا کہ بیرونی قوتیں دہشت گرد گروہوں کو مالی معاونت فراہم کرتی ہیں اور نوجوانوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کو ایک کاروبار بنا دیا گیا ہے اور اس کے ذریعے نہ صرف ملک کو نقصان پہنچایا جارہا ہے بلکہ بلوچستان کے نوجوانوں کا مستقبل بھی تباہ کیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے نوجوانوں کو دہشت گردی کے لیے پیسے نہیں دے سکتا، بلکہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ نوجوانوں کو روزگار، تعلیم، ہنر اور بہتر مستقبل فراہم کرے صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ بلوچستان کے وسائل، معدنیات، گوادر اور تجارتی راستے صوبے اور پاکستان کی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ ان کے بقول دہشت گردی کے ذریعے بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں، تجارت، ٹرانسپورٹ اور معاشی سرگرمیوں کو روکنے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ صوبے کی پسماندگی برقرار رہے انہوں نے کہا کہ جب بلوچستان میں سرمایہ کاری بڑھے گی، معدنی وسائل استعمال ہوں گے، گوادر ترقی کرے گا اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے تو نوجوانوں کی زندگی بہتر ہوگی، اسی لیے دہشت گردی کے ذریعے ترقی کا راستہ روکنے کی کوشش کی جاتی ہے میر ضیا لانگو نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو متبادل راستہ فراہم کرنے کے لیے روزگار، میرٹ پر بھرتیوں اور تعلیمی وظائف کے پروگرام شروع کر رہی ہے۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت نے مختلف محکموں میں نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کیے ہیں اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت نے نوجوانوں کے لیے اسکالرشپس کا بھی بڑا پیکیج رکھا ہے تاکہ بلوچستان کے طلبہ اعلی تعلیم حاصل کرسکیں اور مستقبل میں صوبے کی ترقی میں کردار ادا کریں میر ضیا لانگو نے کہا کہ حکومت بلوچستان کے سیاسی، معاشی اور آئینی حقوق کے حوالے سے بات چیت کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو مرکز اور بلوچستان کے درمیان کسی معاملے پر تحفظات ہیں تو ان مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑے سے بڑا مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل ہوسکتا ہے اور پاکستان نے بھی عالمی سطح پر مشکل معاملات کے حل کے لیے سفارتی کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان کے مسائل بھی مذاکرات، سیاسی عمل اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے حل کیے جاسکتے ہیں صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت ان نوجوانوں، سیاسی کارکنوں اور ان حلقوں کے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار ہے جو بلوچستان کے حقوق، انصاف اور ترقی کی بات کرتے ہیں۔ اگر کسی کو یہ شکایت ہے کہ مرکز بلوچستان کے ساتھ ناانصافی کررہا ہے تو حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہو کر مرکز کے سامنے بلوچستان کے حقوق کا مقدمہ پیش کرسکتی ہے تاہم انہوں نے دہشت گرد تنظیموں کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ بندوق کے ذریعے اپنے مطالبات منوانا چاہتے ہیں اور عام شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں، ان کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا مشکل ہے انہوں نے سیاسی قیادت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں مختلف سیاسی رہنماں کی اپنی اپنی سیاست اور پالیسی ہے اور ان کی پالیسیوں پر اختلاف کیا جاسکتا ہے، تاہم سیاسی اختلاف کو دہشت گردی کے ساتھ نہیں ملایا جانا چاہیے میر ضیا لانگو نے سردار اختر جان مینگل، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور محمود خان اچکزئی سمیت مختلف سیاسی رہنماں کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی قیادت کے ساتھ اختلاف رائے اپنی جگہ، لیکن سیاسی مسائل کو سیاسی اور پارلیمانی فورمز پر ہی زیر بحث آنا چاہیے انہوں نے محمود خان اچکزئی کے بعض بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہر پاکستانی سیاسی رہنما سے توقع کی جاتی ہے کہ پاکستان اس کی پہلی ترجیح ہو۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان کی تنقید کسی شخص کے ووٹرز یا سیاسی وجود پر نہیں بلکہ ان کی پالیسی اور بیانات پر ہے صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ افغانستان پاکستان کا برادر ملک ہے اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تاریخی، مذہبی، قبائلی اور ثقافتی رشتے موجود ہیں، تاہم ہر شخص کا ایک وطن اور ایک ملک ہوتا ہے اور پاکستان کے معاملات میں پاکستان کی اولین حیثیت ہونی چاہیے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام نے دہشت گردی کے تلخ تجربات دیکھے ہیں۔ ان کے مطابق بعض علاقوں میں دہشت گردوں نے عام زمینداروں، مزدوروں، کاروباری افراد اور ٹرانسپورٹرز کو بھی مشکلات سے دوچار کیا، جبکہ بعض مقامات پر بھتہ وصولی اور دھمکیوں کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں میر ضیا لانگو نے کہا کہ قلات اور خالق آباد سمیت مختلف علاقوں کے عوام خود گواہ ہیں کہ دہشت گردی سے عام زندگی کس طرح متاثر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے خواتین اور بچوں کے لیے صحت کی سہولیات بہتر بنانے اور ایمبولینس سروسز فراہم کرنے کے اقدامات کیے، کیونکہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں خواتین اور مریضوں کو ہسپتال پہنچانا ایک بڑا مسئلہ تھا ان کا کہنا تھا کہ ریاستی اداروں اور حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولیات کو نقصان پہنچانا یا عوام کو بنیادی سہولیات سے محروم کرنا کسی بھی صورت میں عوامی حقوق کی جنگ نہیں ہوسکتی صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ وقت کے ساتھ عوام دہشت گردوں کے اصل کردار کو سمجھ رہے ہیں۔ جب عوام دہشت گردی سے تنگ آکر ریاست کے ساتھ کھڑے ہوں گے تو دہشت گردوں کے لیے اپنے مقاصد حاصل کرنا مزید مشکل ہوجائے گا انہوں نے کہا کہ ریاستی کارروائی کا مقصد عام شہریوں کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ دہشت گردوں کو قانون کے دائرے میں لانا اور عوام کو محفوظ بنانا ہے۔ ان کے مطابق اگر دہشت گرد عام آبادی میں چھپ کر کارروائیاں کرتے ہیں تو ریاست کے لیے سب سے بڑا چیلنج شہریوں کی حفاظت ہے میر ضیا لانگو نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ آسان نہیں اور اس جنگ میں بعض اوقات افسوسناک نقصانات بھی ہوتے ہیں، تاہم حکومت اور سکیورٹی ادارے عوام کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے انہوں نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان میں امن، ترقی، روزگار اور تعلیم کے مواقع بڑھانے کے لیے حکومت اپنی پالیسی جاری رکھے گی صوبائی وزیر داخلہ کے مطابق بلوچستان کے نوجوانوں کو پہاڑوں کی طرف لے جانے کے بجائے یونیورسٹیوں، روزگار کے مراکز اور ترقی کے میدان میں لانا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر نوجوانوں کو تعلیم، میرٹ پر روزگار اور باعزت مستقبل کے مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ خود بلوچستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرسکتے ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مستقبل کا فیصلہ بندوق سے نہیں بلکہ تعلیم، ترقی، سیاسی عمل، مذاکرات اور عوامی مینڈیٹ سے ہونا چاہیے۔ میر ضیا لانگو نے کہا کہ حکومت کا مقصد بلوچستان کے عوام کو امن، روزگار، تعلیم اور ترقی دینا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے بڑا ہتھیار عوام کا اعتماد ہے۔ اگر عوام ریاست کے ساتھ کھڑے ہوں گے تو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل بندوق نہیں بلکہ مذاکرات، آئین، پارلیمنٹ، ترقی اور عوامی شمولیت میں ہے، جبکہ عام شہریوں کو نشانہ بنانے والے عناصر کے خلاف ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرے گی۔
