پشین کے علاقے سرانان ‘ زیارت ، سنجاوی، ہرنائی ، کوئٹہ میں دہشتگردی کی واقعات ‘ پشتونخواہ میپ نے ’’سرکاری جھتوں ‘‘ کی کارروائیاں قرار دیدی

مسلح سرکاری جتھوں کی سرپرستی اور کارروائیاں قابلِ مذمت، صوبے میں بدامنی کی لہر تشویشناک ہے: پشتونخواملی عوامی پارٹی


پولیس تھانوں کو نذرِ آتش کرنا اور لاقانونیت معاشرے کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل رہی ہے؛
اچھے اور بُرے دہشت گرد کی تمیز ختم کر کے قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے: صوبائی سیکرٹریٹ کا سخت بیان
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ کے جاری کردہ پریس ریلیز میں امن وامان کی خراب صورتحال پر مسلط نام نہاد صوبائی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ضلع پشین کے علاقے سرانان سمیت زیارت ، سنجاوی، ہرنائی ، کوئٹہ میں سرعام مسلح سرکاری جتوں کی کارروائیوں کے واقعات کی پارٹی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے ۔ یہ واقعات نہ صرف امن و امان کی صورتحال پر سنگین سوالیہ نشان ہیں بلکہ ان سے عوام میں شدید خوف و ہراس پھیل رہا ہے اور شہری خود کو اپنے ہی گھروں میں غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔پولیس تھانوں کو نذرِ آتش کرنے کے واقعات نہ صرف قابلِ مذمت ہیں بلکہ صوبے کی اپنی فورسز پہلے مرحلے میں لیویز فورس کو پولیس میں ضم کیا گیا اور اب لیویز وپولیس فورس دونوں کو نشانہ بنایا جارہے اور روزانہ کی بنیاد پر واقعات رونماء ہورہے ہیں جن میں فورسز اور غریب بے گناہ نہتے انسان لقمہ اجل بن رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبے بالخصوص جنوبی پشتونخوا کے تمام اضلاع میں اس وقت بدامنی کی لہر موجود ہے ، سرعام مسلح افراد اور جتوں کا قانون کو ہاتھ میں لینا، سرکاری املاک کو نشانہ بنانا اور پولیس تھانوں پر حملے کرنا ریاستی رٹ اور قانون کی بالادستی کے لیے انتہائی خطرناک صورتحال ہے۔ ایسے واقعات حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سنگین غفلت اور اپنے فرائض کی مؤثر ادائیگی میں ناکامی کا واضح تاثر پیدا کرتے ہیں۔اور جاری پراکسیز اور مسلح جتھے یا قانون شکن عناصر کی حکومتی سرپرستی قابل افسوس اور قابل مذمت ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پارٹی شروع دن سے مطالبہ کرتی رہی ہے کہ اچھے اور بُرے دہشت گرد کی تمیز کو ختم کیاجائے ۔مسلح جتھوں اور قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز، مؤثر اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، سرعام اسلحہ کی نمائش اور مسلح کارروائیوں کا فوری سدباب کیا جائے جبکہ حساس علاقوں میں سکیورٹی کے مؤثر انتظامات کیے جائیں تاکہ شہری بلاخوف اپنے معمولات زندگی جاری رکھ سکیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس تھانوں پر حملے لاقانونیت عام ہونے اور معاشرے میں انتشار و بدامنی بڑھنے کا خدشہ ہے۔ عوام کے گھروں تک خوف کا پہنچ جانا کسی بھی مہذب اور ذمہ دار ریاست کے لیے انتہائی تشویشناک امر ہے جس کے باعث خانہ جنگی عام ہوگی جس کی ذمہ داری ریاست ہوگی ۔ بیان میں حکومت، انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ عوام کو فوری اور عملی تحفظ فراہم کیا جائے، مسلح جتھوں کا خاتمہ کیا جائے، ریاستی رٹ بحال کی جائے اور قانون کی بالادستی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ ایسے واقعات کا مسلسل رونما ہونا معاشرے کو انتشار اور ممکنہ خانہ جنگی کی طرف لے جانے کے مترادف ہے، جس کے نتائج انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔ریاست کی بنیادی ذمہ داری اپنے شہریوں کا تحفظ، عوام کے جان، مال، عزت اور املاک کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ حکومت کو محض بیانات اور یقین دہانیوں کے بجائے عملی اقدامات کے ذریعے ثابت کرنا ہوگا کہ عوام کے جان و مال اور امن و امان کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

WhatsApp
Get Alert