بلوچستان میں قانونی تجارت اور انٹرنیٹ بند، مگر منشیات اور رشوت کا بازار گرم ہے: مولانا ہدایت الرحمن بلوچ

پشکان میں ڈیتھ اسکواڈ کے خلاف مؤثر کارروائی اور گوادر میں بلاامتیاز انسدادِ منشیات آپریشن کا مطالبہ


جماعت اسلامی کے دھرنوں سے حکمران عوامی مسائل حل کرنے پر مجبور ہوں گے، توجہ ہٹانے کے لیے سازشیں ہو رہی ہیں: امیر جماعت اسلامی بلوچستان
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) امیرجماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں بارڈرزکی قانونی تجارت وکاروبار،شاہراہیں،انٹرنیٹ بندمگرمنشیات وغیرقانونی کاروبارجاری رشوت کابازارگرم ہے۔جماعت اسلامی منشیات بدامنی،بدعنوانی سمیت ہرظلم وجبرکے خلاف جدوجہد جاری رکھے گی جماعت اسلامی کے قومی سطح احتجاجی دھرنے واحتجاج سے حکمران وطاقتورطبقات عوام کے سلگتے اجتماعی قومی مسائل حل کرنے پرمجبورہوں گے۔دھرنوں سے توجہ ہٹانے کیلئے بھی بہت کچھ ہورہاہے۔ان خیالات کااظہارانہوں انہوں نے گوادر میں مختلف وفودو ایس ایس پی گوادر سے ملاقات کے دوران گفتگو میں کیا۔ملاقات میں امن و امان اور منشیات کے خلاف کارروائی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے پشکان میں مبینہ ڈیتھ اسکواڈ کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے پر زور دیا اور کہا کہ علاقے میں امن و امان کے قیام کے لیے قانون کے مطابق ضروری اقدامات کیے جائیں۔مولانا ہدایت الرحمن نے ضلع گوادر بھر میں منشیات کے خلاف مؤثر اور بلاامتیازآپریشن کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیاتاکہ نوجوان نسل کو منشیات کے ناسور سے محفوظ رکھا جا سکے۔اس موقع پر مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے ان اہلکاروں کے معاملے پر بھی بات کی جو لیویز فورس کے پولیس میں انضمام کے وقت غیر حاضر تھے اور بعد ازاں ملازمت سے ڈسمس کیے گئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے اہلکاروں کے معاملات کا جائزہ لے کر قانون اور ضابطے کے مطابق ان کی ملازمتیں دوبارہ فعال کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ملاقات میں ضلع گوادر میں امن و امان کی بہتری، منشیات کے خاتمے اور عوام کو بہتر تحفظ فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

WhatsApp
Get Alert