بلوچستان میں سرکاری اسلحے کی چوری اور کالعدم تنظیموں کو مبینہ فروخت کا انکشاف؛ اہلکار اور ڈی ایس پی سمیت 3 گرفتار ‘

سی ٹی ڈی کی کلی نوحصار میں کارروائی، بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور راکٹ گولے برآمد، ملزمان پر دہشت گردی کا مقدمہ درج


سرکاری گاڑیوں اور واٹس ایپ کے ذریعے اسلحہ فروخت کیے جانے کا انکشاف، اثاثوں کی منتقلی کے دوران غفلت کے خدشات؛ تحقیقات جاری
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان میں سرکاری اسلحے کی بڑے پیمانے پر مبینہ چوری اور اسے کالعدم تنظیموں کو فروخت کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ اس معاملے میں سابق لیویز اہلکار اور موجودہ پولیس افسر سمیت 3 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق چند ماہ قبل سامنے آنے والے اس معاملے کو فوری طور پر منظرِ عام پر نہیں لایا گیا۔ رواں سال مئی میں کوئٹہ کے علاقے بلیلی میں محکمہ ایکسائز کی معمول کی چیکنگ کے دوران ایک گاڑی سے اسلحہ برآمد ہوا، جس کے بعد کیس مزید تفتیش کے لیے کانٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کیا گیا۔سی ٹی ڈی نے بعد ازاں کوئٹہ کے علاقے کلی نوحصار میں ایک مکان پر کارروائی کرتے ہوئے مزید بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا اور دو ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ گرفتار افراد میں روشن خان بھی شامل تھا، جو لیویز کے اسلحہ خانے میں ڈیوٹی انجام دے چکا تھا۔ بعد میں لیویز اسلحہ خانے کے انچارج عبدالحکیم کو بھی گرفتار کرکے تفتیش میں شامل کیا گیا۔18 مئی 2026 کو سب انسپکٹر شائستہ خان کی مدعیت میں درج مقدمہ نمبر 71/2026 میں ملزمان کے خلاف دھماکہ خیز مواد ایکٹ، بلوچستان آرمز ایکٹ اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کی مختلف دفعات عائد کی گئی ہیں۔ایف آئی آر کے مطابق سی ٹی ڈی کو اطلاع ملی تھی کہ روشن خان اپنے ساتھیوں محمد شفیق اور حنیف بڑیچ کے ساتھ مبینہ طور پر کالعدم تنظیموں کو دہشت گردی کے لیے اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کرتا ہے۔ اطلاع پر کلی نوحصار میں مکان پر چھاپہ مارا گیا، جہاں سے روشن خان اور محمد شفیق کو گرفتار کرکے دو نائن ایم ایم پستول برآمد کیے گئے، جبکہ حنیف بڑیچ مبینہ طور پر موقع سے فرار ہوگیا۔ایف آئی آر کے مطابق مکان کی تلاشی کے دوران آٹھ بوریوں اور ایک لکڑی کے بکس سے بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد کیا گیا، جس میں چار سب مشین گنز، چھ چینی ساختہ رائفلیں، تین لائٹ مشین گنز، پانچ تھری ناٹ تھری رائفلیں، ایک جی تھری رائفل، بارہ اور بائیس بور کی دو رائفلیں، پانچ ہزار سے زائد گولیاں اور متعدد میگزین شامل تھے۔ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران 16 راکٹ گولے، دو لانچر، 18 فیوز اور 10 دستی بم بھی برآمد ہوئے۔ دو دستی بم اور 18 فیوز کو خطرناک قرار دے کر موقع پر تلف کردیا گیا جبکہ باقی اسلحہ قانونی کارروائی کے تحت قبضے میں لے لیا گیا۔ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مبینہ طور پر سرکاری اہلکار سرکاری گاڑیوں کے ذریعے اسلحہ دفتر سے نکال کر کوئٹہ، پشین، قلعہ عبداللہ، گلستان اور افغان سرحدی علاقوں سمیت مختلف مقامات پر فروخت کرتے رہے۔ ان کے مطابق واٹس ایپ کے ذریعے بھی اسلحہ فروخت کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں اور خدشہ ہے کہ کالعدم تنظیموں کے کارندوں کو بھی اسلحہ فراہم کیا گیا۔پولیس افسر کے مطابق اسلحہ خریدنے والے بعض افراد کے موبائل نمبرز گرفتاریوں کے بعد سے بند جا رہے ہیں، جس سے تفتیش مزید پیچیدہ ہوگئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے اس کیس میں ملوث لیویز کے سابق افسر اور موجودہ پولیس کے ڈی ایس پی عبدالحکیم کو ملازمت سے برطرف کردیا ہے۔ پولیس ترجمان کے مطابق عبدالحکیم کو مسلسل غیر حاضر رہنے، مبینہ بدتمیزی اور سرکاری شوکاز نوٹسز کا جواب نہ دینے پر ملازمت سے برطرف کیا گیا۔پولیس ذرائع کے مطابق ڈائریکٹوریٹ جنرل لیویز سے قیمتی اور حساس اسلحے، سرکاری سامان اور مشینری کی چوری کا یہ پہلا واقعہ نہیں، بلکہ اس سے قبل بھی متعدد چوریاں ہوچکی ہیں۔ بیشتر واقعات لیویز فورس کے پولیس میں انضمام اور اثاثوں کی منتقلی کے دوران پیش آنے کا بتایا جاتا ہے۔ذرائع کے مطابق سابق لیویز حکام کی جانب سے اسلحے اور دیگر سامان کی مکمل تفصیلات فراہم نہ کیے جانے کے باعث تحقیقات میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ کئی ماہ گزرنے کے باوجود سی ٹی ڈی کی جانب سے کیس کا چالان عدالت میں پیش نہیں کیا جاسکا۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری اسلحے کے علاوہ مختلف مقدمات میں ضبط شدہ سامان، انسدادِ ہنگامہ آرائی کا سامان اور بلٹ پروف جیکٹس کے غائب ہونے کے خدشات بھی موجود ہیں، جن کی مکمل چھان بین ضروری ہے۔دوسری جانب بلوچستان لیویز کے ایک سابق سینئر عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تحریری بیان میں مقف اختیار کیا ہے کہ جس وقت مبینہ چوری کا واقعہ پیش آیا، اس وقت محکمہ داخلہ بلوچستان کے 3 فروری 2026 کے نوٹیفکیشن کے تحت لیویز فورس مکمل طور پر بلوچستان پولیس میں ضم ہوچکی تھی اور اس کے تمام اثاثے و ذمہ داریاں پولیس کو منتقل ہوچکی تھیں۔بیان کے مطابق گرفتار دونوں اہلکار ماضی میں لیویز سے وابستہ رہے، تاہم گرفتاری کے وقت وہ باضابطہ طور پر بلوچستان پولیس کے ملازم تھے۔ دونوں ملزمان اس وقت جیل میں ہیں اور معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔سابق لیویز عہدیدار کے مطابق سابق لیویز ڈائریکٹوریٹ کی عمارت انضمام کے بعد محکمہ داخلہ کو الاٹ کردی گئی تھی، جہاں بعد ازاں صوبائی وزیر داخلہ کا دفتر قائم ہوا، اس لیے اسے موجودہ فعال لیویز دفتر قرار دینا درست نہیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ 22 اپریل 2026 کو محکمہ خزانہ کی دستاویز کے تحت لیویز ڈائریکٹوریٹ کی 12 کیڈر پوسٹیں سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کو منتقل کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔ کسی بھی مالی یا اسلحہ اسکینڈل کی ذمہ داری کا تعین ماضی کی ملازمت کے بجائے اس وقت کی ادارہ جاتی صورتحال اور تحقیقات کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔سابق عہدیدار نے کہا کہ اسلحے یا سرکاری سامان کی گمشدگی سے متعلق دعووں کی تصدیق کے لیے مال خانے، اسلحہ رجسٹر، اثاثوں اور پولیس کو حوالگی کے ریکارڈ کا تقابلی جائزہ ضروری ہے، جبکہ موجودہ تحقیقات میں گرفتار اہلکاروں کے کردار کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔

WhatsApp
Get Alert