جماعت اسلامی بلوچستان کا بدامنی، بارڈرز کی بندش اور بھتہ خوری کے خلاف 22 اگست کو یومِ احتجاج منانے کا اعلان
حکومت شاہراہوں کو محفوظ بنانے اور عوامی مسائل کے حل میں ناکام ہو چکی ہے: مولانا ہدایت الرحمن بلوچ

عوام کے حقوق کی فراہمی، آزادانہ تجارت اور امن کے قیام تک پرامن جدوجہد جاری رہے گی: امیر جماعت اسلامی بلوچستان
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) امیر جماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے بلوچستان بھر میں بدامنی، بدعنوانی، لاقانونیت، شاہراہوں اور بارڈرز کی بندش جبکہ پٹرولیم مصنوعات پر مبینہ بھتہ خوری کے خلاف 22 اگست بروز ہفتہ یومِ احتجاج منانے کا اعلان کردیا۔ اس موقع پر ضلعی ہیڈکوارٹرز اور پریس کلبز کے سامنے احتجاجی مظاہرے، ریلیاں اور جلسے منعقد کیے جائیں گے۔گوادر میں تقریبات سے خطاب اور مختلف وفود سے ملاقات کے دوران مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے عوام بدامنی، غیر محفوظ شاہراہوں، پٹرولیم مصنوعات پر مبینہ بھتہ خوری اور بارڈرز کی بندش جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہیں، جبکہ حکمران اور متعلقہ ادارے عوامی مشکلات کے حل کے بجائے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قومی شاہراہوں کو عوام، تاجروں، ٹرانسپورٹرز اور مسافروں کے لیے محفوظ بنانا حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ شاہراہوں پر لوٹ مار اور عدم تحفظ نے عوام کو شدید ذہنی اذیت اور معاشی مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے، جبکہ بارڈرز کی بندش سے ہزاروں خاندانوں کا روزگار متاثر ہو رہا ہے۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ 22 اگست کا یومِ احتجاج عوام کے جائز حقوق اور مسائل کے حل کے لیے پرامن اور بھرپور آواز بلند کرنے کا دن ہے۔ جماعت اسلامی ظلم، ناانصافی، بدامنی، بھتہ خوری اور عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔انہوں نے کارکنان، تاجر برادری، ٹرانسپورٹرز، نوجوانوں اور تمام طبقاتِ زندگی سے احتجاج میں بھرپور شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو امن، تحفظ، باعزت روزگار، آزادانہ تجارت اور بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں، کیونکہ عوام کے مسائل حل کیے بغیر صوبے میں پائیدار امن اور ترقی ممکن نہیں۔دریں اثنا جماعت اسلامی بلوچستان کی سیاسی کمیٹی اور صوبائی ذمہ داران کا اجلاس زاہد اختر بلوچ کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں صوبے کی مجموعی صورتحال، امن و امان، بدامنی، بارڈرز اور شاہراہوں کی بندش سمیت مرکزی دھرنوں اور آئندہ کی احتجاجی سرگرمیوں پر مشاورت کی گئی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 22 اگست کو بلوچستان بھر میں یومِ احتجاج منایا جائے گا جبکہ جماعت اسلامی کی مرکزی کال پر جاری دھرنوں اور آئندہ ہڑتالوں، دھرنوں و احتجاجی سرگرمیوں میں بلوچستان بھر سے بھرپور شرکت کی جائے گی۔
