بلوچستان کو تباہی کی طرف دھکیلنے میں سرینا ہوٹل کے منصوبہ سازوں کا کردار تاریخ کے کٹہرے میں ہے: مولانا عبدالواسع

صوبے کی قومی شاہراہیں غیر محفوظ ہوچکیں، جرائم پیشہ اور دہشت گرد عناصر ریاستی رٹ کو کھلے عام چیلنج کر رہے ہیں


بلوچستان کسی محلاتی تجربہ گاہ کا نام نہیں، مصنوعی سیاسی بندوبست کے بجائے عوامی مینڈیٹ اور آئین کا راستہ اختیار کیا جائے: صوبائی امیر جے یو آئی
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ باعزت، محفوظ اور پْرامن زندگی گزارنا ہر شہری کا بنیادی آئینی اور انسانی حق ہے، مگر بلوچستان کے عوام کو آج اس بنیادی حق سے بھی محروم کردیا گیا ہے؛ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ایک شریف شہری صبح گھر سے نکلتے وقت یہ یقین نہیں کرسکتا کہ شام کو بحفاظت واپس لوٹے گا۔ صوبہ عملاً بدامنی، لاقانونیت اور عدم تحفظ کی لپیٹ میں ہے، بین الصوبائی شاہراہیں اور اہم قومی و علاقائی گزرگاہیں سنسان اور غیر محفوظ ہوچکی ہیں، جبکہ جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گرد ریاستی رٹ کو کھلے عام چیلنج کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو اس تباہ کن صورتحال تک پہنچانے میں سرینا ہوٹل کے منصوبہ سازوں اور ان کے پسِ پردہ قوتوں کا کردار بھی تاریخ کے کٹہرے میں کھڑا ہے؛ یہ وہ منصوبہ ساز ہیں جو ہر دور میں بلوچستان کے سیاسی، جمہوری اور عوامی اختیار کو کمزور کرکے صوبے کو محرومی، بدامنی اور انتشار کی طرف دھکیلنے کی پالیسیوں کا حصہ رہے ہیں۔ محلاتی سازشوں، اقتدار کے غیر شفاف بندوبست اور عوامی مینڈیٹ کو نظرانداز کرنے کی روش نے بلوچستان میں حکومتی رٹ کو کمزور، سیاسی اداروں کو بے وقار اور عوام کے اعتماد کو مجروح کیا ہے۔ آج صوبہ جس شورش، بے یقینی اور خوف کی کیفیت سے گزر رہا ہے، وہ اچانک پیدا نہیں ہوئی بلکہ برسوں کی غلط پالیسیوں، سیاسی انجینئرنگ، غیر مؤثر حکمرانی اور عوامی حقوق سے مسلسل انحراف کا نتیجہ ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ جس انفراسٹرکچر اور ترقیاتی بنیاد کو گزشتہ ادوار میں بڑی محنت سے تعمیر کیا گیا تھا، بدامنی اور تخریب کاری نے اسے بھی شدید نقصان پہنچایا، اور بلوچستان کو دوبارہ نوے کی دہائی جیسے تاریک، پْرتشدد اور غیر یقینی دور کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرینا ہوٹل میں بیٹھ کر بلوچستان کے مستقبل کے فیصلے کرنے والے منصوبہ سازوں کو سمجھنا ہوگا کہ صوبہ کسی محلاتی تجربہ گاہ کا نام نہیں، یہاں لاکھوں انسان بستے ہیں جنہیں امن، عزت، روزگار، انصاف اور سیاسی اختیار کا حق حاصل ہے۔ بلوچستان کو بندوق، سازش اور مصنوعی سیاسی بندوبست کے ذریعے نہیں بلکہ آئین، جمہوریت، عوامی مینڈیٹ، مذاکرات اور انصاف کے ذریعے ہی مستحکم کیا جاسکتا ہے۔ ریاست اگر واقعی بلوچستان میں امن چاہتی ہے تو اسے محلاتی سازشوں اور سیاسی انجینئرنگ کا راستہ ترک کرکے عوام کے حقیقی نمائندوں کو اعتماد میں لینا ہوگا، حکومتی رٹ بحال کرنا ہوگی اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دینا ہوگی۔ جمعیت علمائ اسلام بلوچستان کے عوام کو اس مشکل گھڑی میں ہرگز تنہا نہیں چھوڑے گی اور صوبے کے آئینی، سیاسی، جمہوری اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی غیر متزلزل جدوجہد ہر سطح پر جاری رکھے گی۔

WhatsApp
Get Alert