پارلیمنٹ میں اپوزیشن جماعتوں کا باقاعدہ متحدہ اتحاد؛ تمام قومی امور پر متفقہ موقف اپنانے کا فیصلہ ، سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے، موجودہ وقت نئے صوبوں کی تشکیل کا نہیں، : مولانا فضل الرحمان
آج بہت خوشی کا دن ہے، اپوزیشن نے آئین و عدلیہ کی بحالی اور پارلیمنٹ کی مضبوطی کے لیے متحد ہونے کا اعلان کیا ہے: محمود خان اچکزئی

قومی اسمبلی اور سینیٹ میں الگ الگ بات کرنے کے بجائے متحد ہو کر آواز بلند کی جائے گی، ہم نے مولانا کو اعتماد دیا ہے کہ ہم سب ایک ساتھ آگے چلیں گے: بیرسٹر گوہر
اسلام آباد (ڈیلی قدرت کوئٹہ): پارلیمنٹ میں اپوزیشن جماعتوں نے باقاعدہ طور پر ایک متحدہ اپوزیشن الائنس تشکیل دے دیا ہے، جس کے تحت پوری اپوزیشن تمام قومی امور، قانون سازی، الیکشن کمیشن میں تعیناتیوں، عدلیہ، جمہوریت اور آئین کی بحالی کے حوالے سے متفقہ موقف اختیار کرے گی اور مل کر آگے بڑھے گی۔
اس اہم پیش رفت کا اعلان ایک مشترکہ نیوز کانفرنس کے دوران کیا گیا۔ امیر جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) مولانا فضل الرحمان نے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آج کے دن کو مبارک دن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف کے بینچوں پر بیٹھنے والی جماعتوں نے جوائنٹ اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کا متفقہ فیصلہ کیا ہے۔ ملک میں امن و امان کی ابتر صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج ہم اکٹھے ہیں، ایک طرف ہماری سرزمین خون سے سرخ ہے تو دوسری طرف ہمارے حکمران سرخ قالینوں پر چل رہے ہیں۔ امن و امان کی خرابی ملکی معیشت کو بھی تباہ کر رہی ہے۔ انہوں نے ملکی حالات کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم بھارت کے ساتھ جنگ اور تقابل کی باتیں کرتے ہیں لیکن بھارت اس وقت دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بن چکا ہے، اور ہمیں عدلیہ کی عالمی رینکنگ میں اپنی پوزیشن بھی دیکھنی چاہیے۔
نئے صوبوں کی تشکیل کی بازگشت پر مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ یہ وقت صوبوں کی تقسیم کا نہیں ہے، اس اقدام سے بداعتمادی میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے 18ویں ترمیم کو مقتدرہ کے حلق کا کانٹا قرار دیا۔ مولانا نے زور دیا کہ موجودہ صورتحال میں تمام اپوزیشن اس بات پر متفق ہے کہ ریاستی سطح پر پاکستان مزید کسی نئے بحران کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ کشمیر کی صورتحال پر انہوں نے کہا کہ وہاں بھی لوگ سڑکوں پر ہیں اور عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے ان پر تشدد کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قیدیوں کی رہائی ہونی چاہیے اور ملک میں ایک بہتر سیاسی ماحول پیدا کیا جانا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ سیاسی قیدیوں کی رہائی اور سیاسی ماحول کی بہتری کے مطالبات پر آج پہلا قدم اٹھایا گیا ہے اور ہم اس سفر کا آغاز کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کی جیلیں سیاسی قیدیوں سے بھری ہوئی ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ملکی سیاسی ماحول کو ٹھیک کیا جائے۔ موجودہ حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ حکومت دھاندلی کی بنیاد پر قائم کی گئی ہے اور یہ ملک کے اندر اور باہر وقار بلند نہیں کرسکتی۔ ہمارا اتفاق ہے کہ سیاسی قیدیوں کو فی الفور رہا کیا جائے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ ابتدا ہے، آج خوشی کا دن ہے اور ہم پاکستان میں آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے متفقہ طور پر کردار ادا کریں گے۔
اس موقع پر تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج بہت خوشی اور بڑا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اپوزیشن نے متحد ہو کر آئین کی بحالی، پارلیمنٹ کی مضبوطی اور عدلیہ کی بحالی کے لیے مشترکہ جدوجہد کا اعلان کیا ہے، اور ایک نیا اتحاد قائم ہوا ہے۔ انہوں نے کہا، “میں بہت خوش ہوں، خدا پاکستان کا بھلا کرے اور ہمیں ہمت دے کہ ہم پاکستان کو اس بری حالت سے نکال سکیں۔”
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ تمام اتحادی جماعتوں نے اپنی تجاویز دی ہیں کہ حکومت کو کس طرح ٹف ٹائم دیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں میں الگ الگ بات کرنے کے بجائے اب متحد ہو کر آواز بلند کی جائے گی اور کوشش ہوگی کہ تمام قومی مسائل پر مشترکہ بات کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر، عدلیہ، معیشت، صوبوں کے مسائل، دہشت گردی اور اسیروں کی رہائی کے حوالے سے اپوزیشن یکساں موقف اپنائے گی۔ بیرسٹر گوہر نے یقین دلایا کہ “ہم نے مولانا کو اعتماد دیا ہے کہ ہم سب ایک ساتھ مل کر آگے چلیں گے۔”
