معاہدۂ مکہ کے رکن ممالک کا آج پہلا اجلاس، کون سے تین اہم ایجنڈوں پر بات چیت متوقع ہے؟

استنبول (قدرت روزنامہ)پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے ’معاہدۂ مکہ‘ کے تحت قائم ’اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی‘ کا پہلا باضابطہ اجلاس ترکیہ کے شہر استنبول میں منعقد ہو رہا ہے۔ اس اہم اجلاس میں تینوں ممالک کی عسکری اور سیاسی قیادت شرکت کر رہی ہے تاکہ مشترکہ سلامتی کے فریم ورک کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز اور ترک میڈیا کے مطابق اس اجلاس میں بین الاقوامی سکیورٹی، دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے، اور مشترکہ دفاعی پیداوار و تحقیق جیسے تین اہم ایجنڈوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر دفاع خواجہ آصف کر رہے ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے فیلڈ مارشل کے سرکاری دورے پر ترکیہ پہنچنے کی تصدیق کی ہے۔
ترکیہ کی جانب سے وزیر خارجہ حاقان فیدان، وزیر دفاع یشار گولر اور چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بائراکتار اولو جبکہ سعودی عرب سے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فیاض بن حامد الرویلی اس اسٹریٹجک اجلاس میں شریک ہیں۔
ترک وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اس اجلاس کا بنیادی مقصد تینوں برادر ممالک کے درمیان عسکری ہم آہنگی، انسدادِ دہشت گردی کی مشترکہ کوششوں کو موثر بنانے اور دفاعی صنعت میں تعاون کو بڑھانا ہے۔
اس کے علاوہ مشترکہ سرگرمیوں کی رہنمائی کے لیے ایک باقاعدہ سیکرٹریٹ اور جامع روڈ میپ بھی وضع کیا جائے گا۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد سے شدید عدم استحکام پایا جاتا ہے اور خطے کی صورتحال تشویشناک ہے۔
واضح رہے کہ رواں ماہ سات اگست کو مکہ مکرمہ میں وزیراعظم شہباز شریف، ترک صدر رجب طیب اردوان اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اس تاریخی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
اس معاہدے کی سب سے اہم شق نیٹو کے طرز پر ہے، جس کے تحت کسی بھی ایک رکن ملک پر حملہ تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ ترک حکام کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ کسی موجودہ اتحاد کا متبادل نہیں اور مستقبل میں مصر جیسے ممالک کو بھی اس میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب بنگلا دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان نے بھی پارلیمنٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر معاہدۂ مکہ کے رکن ممالک کی جانب سے بنگلا دیش کو شمولیت کی پیشکش کی گئی تو ڈھاکہ اس پر مثبت انداز میں غور کرے گا، اور یہ امتِ مسلمہ کا اندرونی معاملہ ہے لہذا کسی اور ملک کو اس پر تشویش نہیں ہونی چاہیے۔
