کوئٹہ میں ترقیاتی منصوبوں کی سست رفتاری نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی، جگہ جگہ کھڈے اور ملبہ وبال جان بن گئے

شہر کی اہم شاہراہیں اور بازار مٹی اور گردوغبار سے اٹے پڑے ہیں، ٹریفک کا نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے


حکومت کی غفلت سے ترقیاتی منصوبے عوامی سہولت کے بجائے اذیت کا سبب بن گئے، وزیر اعلیٰ نوٹس لیں: عوامی حلقے
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ)صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ترقیاتی منصوبوں کی سست رفتاری نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ شہر کے بیشتر علاقوں میں کھدائی، ادھورے منصوبے اور ناقص انتظامی کارکردگی کے باعث عوام شدید مشکلات سے دوچار ہیںشہر کی اہم شاہراہیں، گلیاں اور بازار مٹی، گردوغبار اور کھلے کھڈوں سے اَٹے پڑے ہیں‘ جگہ جگہ کھڑی تعمیراتی مشینری اور ادھورے کاموں نے ٹریفک نظام کو مفلوج کر دیا ہے‘ اسکولوں اور اسپتالوں کے قریب بھی تعمیراتی ملبہ اور مٹی کے ڈھیر شہریوں کے لیے وبالِ جان بن چکے ہیںعوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومتی ادارے اور متعلقہ محکمے مکمل طور پر غفلت کا مظاہرہ کر رہے ہیں‘ ترقیاتی منصوبے عوامی سہولت کے بجائے اذیت کا سبب بن گئے ہیں‘ شہریوں نے سوال اٹھایا کہ اگر صوبائی دارالحکومت کی یہ حالت ہے تو دور دراز اضلاع کا کیا حال ہوگا؟شہریوں نے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفرا ز بگٹی ودیگر فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ اگر حکومت نے جلد مؤثر اقدامات نہ کیے تو کوئٹہ ایک ترقی یافتہ شہر کے بجائے ’’کھنڈر‘‘ کا منظر پیش کرے گا۔

WhatsApp
Get Alert