سندھ کی تقسیم یا نئے صوبوں کا قیام ناقابل قبول ہے، عوام اس معاملے پر متحد ہیں: مولانا فضل الرحمن

ظلم پر مبنی حکمرانی سے انصاف کی توقع نہیں کی جاسکتی، عوام کو بااختیار بنانے کے بجائے آواز محدود کی جارہی ہے


کسی سیاسی جماعت کے خلاف ہونے پر غداری کے الزامات درست نہیں، اسٹیبلشمنٹ سے سیاسی فائدہ قبول نہیں: سربراہ جے یو آئی
جیکب آباد (ڈیلی قدرت کوئٹہ) جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ سندھ کی تقسیم یا نئے صوبوں کے قیام کی باتیں ناقابل قبول ہیں، سندھ کے عوام اس معاملے پر متحد ہیں، جے یو آئی عوام کے حقوق اور صوبوں کے آئینی اختیار کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرتی رہے گی۔ جے یو آئی سندھ کے پریس سیکریٹری ڈاکٹر اے جی انصاری کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے مزید کہا کہ ظلم پر مبنی حکمرانی سے انصاف کی توقع نہیں کی جاسکتی، ملک اس وقت سیاسی، معاشی اور امن و امان کے بحران سے دوچار ہے، غلط حکومتی پالیسیوں نے مسائل میں اضافہ کردیا ہے، انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ دنیا معاشی ترقی میں کہاں پہنچ گئی اور پاکستان آج کس مقام پر کھڑا ہے، مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ریاست کا کام عوام کو شعور اور اختیار دینا ہے مگر بدقسمتی سے عوام کو بااختیار بنانے کے بجائے ان کی آواز محدود کی جارہی ہے حکمرانی میں شخصیات کے بجائے پالیسیوں، آئین اور نظام پر بحث ہونی چاہیے ، انہوں نے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو حاصل وسائل، قدرتی ذخائر اور محصولات کے حقوق تسلیم کیے جائیں، فاٹا کے حوالے سے ماضی کے فیصلوں کے باوجود وہاں کے مسائل حل نہیں ہوسکے جے یو آئی نے اس وقت بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا، سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ کسی سیاسی جماعت یا شخصیت کے خلاف ہونے کی بنیاد پر غداری کے الزامات عائد کرنا درست نہیں، جے یو آئی کو اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے کوئی سیاسی فائدہ حاصل کرنا قبول نہیں ہمیں انصاف اور آئین کی بالادستی چاہیے دفاع وطن ضروری ہے مگر جبر اور غیر آئینی اقدامات کسی صورت قابل قبول نہیں، انہوں نے کہا کہ عوام کو سیاسی طور پر مضبوط اور باشعور بنانا ہوگا جبکہ شدت پسندی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے اجتماعی جدوجہد ضروری ہے، جے یو آئی اپنے اصولی موقف اور نظامِ عدل کے قیام کی جدوجہد جاری رکھے گی۔

WhatsApp
Get Alert