بلوچستان کی موجودہ مخدوش صورتحال میں غیر ذمہ دارانہ بیانات جلتی پر تیل کا کام کر رہے ہیں سینیٹر مولانا عبدالواسع

ہائبرڈ نظام کا تجربہ بھی اپنی ناکامی ثابت کر چکا ہے اور اس کی بھاری قیمت عوام اور ریاست دونوں کو ادا کرنا پڑ رہی ہے


باہمی گفت و شنید اور بامعنی مذاکرات ہی مسئلے کے حل کا اول و آخر راستہ ہیں
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع اور جنرل سیکرٹری آغا محمود شاہ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان کے مسائل اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ جن نکات پر ایک دہائی قبل سنجیدہ قومی مکالمہ ممکن تھا، آج وہ بھی انتہائی پیچیدہ ہو چکے ہیں، جبکہ اگر موجودہ روش برقرار رہی تو آنے والے وقت میں ان مسائل پر بات چیت کی گنجائش بھی باقی نہیں رہے گی۔ بلوچستان کی موجودہ مخدوش صورتحال میں غیر ذمہ دارانہ بیانات جلتی پر تیل کا کام کر رہے ہیں، لہٰذا ذمہ دار عہدوں پر موجود افراد کو صورتحال کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے انتہائی سنجیدگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ستر کی دہائی سے آج تک بلوچستان کے مسئلے کو حقیقی سیاسی و قومی مسئلے کے طور پر حل کرنے کے بجائے انا، ضد، سیاسی سرد مہری اور وقتی مفادات کی نذر کیا جاتا رہا ہے، جس کے نتیجے میں صوبے میں شورش، بے یقینی اور بداعتمادی کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھ رہی ہے۔ صوبے میں خواتین کا بھی اس کشمکش میں داخل ہونا اور حالات کا پہاڑوں سے نکل کر بازاروں اور شہری علاقوں تک پہنچنا اس بحران کی سنگینی کی واضح علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے بحران کی بنیادی وجہ مسئلے کے حل کے حوالے سے مسلسل غیر سنجیدگی اور غلط پالیسیوں کا تسلسل ہے؛ ہر دور میں دیرپا حل کے لیے قابلِ عمل تجاویز پیش کی گئیں، مگر اصل مسائل کو حل کرنے کے بجائے انہیں نظرانداز کیا گیا اور نت نئی تاویلات و مصنوعی بیانیے تراشے جاتے رہے۔ ہائبرڈ نظام کا تجربہ بھی اپنی ناکامی ثابت کر چکا ہے اور اس کی بھاری قیمت عوام اور ریاست دونوں کو ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ گزشتہ عام انتخابات اور اس سے قبل ہونے والے انتخابی عمل میں جس انداز سے عوامی مینڈیٹ کو متنازع اور بے وقعت بنایا گیا، بلوچستان میں آج کی سیاسی بے چینی، عدم استحکام اور بداعتمادی اسی کا نتیجہ ہے۔ اگر ریاست واقعی بلوچستان میں پائیدار امن، سیاسی استحکام اور قومی یکجہتی چاہتی ہے تو اس کا راستہ طاقت یا مزید تجربات نہیں بلکہ سیاسی عمل، عوامی مینڈیٹ کے احترام، شفاف، آزاد اور غیر جانبدار انتخابات اور عوام کے حقِ حکمرانی کی بحالی سے ہو کر گزرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی پالیسیوں اور غلط فیصلوں کا احتساب کرنے کے بجائے سیاسی قیادت کی کردار کشی اور اسے تمام مسائل کا ذمہ دار قرار دینا جمہوری اقدار کے منافی اور ملک کے سیاسی مستقبل کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ سیاسی انجینئرنگ، مصنوعی اکثریتوں اور سودے بازی کی سیاست نے بلوچستان کو مسلسل بحرانوں کی دلدل میں دھکیلا ہے، اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ آئین، جمہوریت، پارلیمانی بالادستی اور عوامی اختیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ جمعیت علمائ اسلام بلوچستان کی موجودہ صورتحال کو انتہائی تشویشناک سمجھتی ہے اور واضح کرتی ہے کہ باہمی گفت و شنید اور بامعنی مذاکرات ہی مسئلے کے حل کا اول و آخر راستہ ہیں، اس کے علاوہ ہر دوسرا آپشن مزید پیچیدگیوں کو جنم دے گا۔ جمعیت علمائ اسلام اپنے سیاسی تحفظات کے باوجود بلوچستان میں امن، سیاسی استحکام اور اعتماد سازی کے لیے ہر مثبت اور سنجیدہ کوشش میں تعاون کی پیشکش کر چکی ہے اور آج بھی سمجھتی ہے کہ بلوچستان اور وفاق کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج ختم کرنے کے لیے اعتماد سازی، سیاسی مکالمے اور عوامی رائے کا احترام ناگزیر ہے۔ پارلیمان کو صوبائی مسائل کے حل سے بے اختیار یا غیر مؤثر قرار دینے کا بیانیہ بھی درست نہیں، کیونکہ حقیقی عوامی نمائندگی اور مضبوط پارلیمانی ادارے ہی آئینی و سیاسی طریقے سے مسائل کے حل کی ضمانت فراہم کر سکتے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے ضد، انا اور سیاسی مصلحتوں کے بجائے سنجیدہ مذاکرات، اعتماد سازی اور حقیقی عوامی نمائندگی کو ترجیح دی جائے۔

WhatsApp
Get Alert