اسلام آباد ہائیکورٹ کا عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قید تنہائی میں نہ رکھنے کا حکم

فیملیز سے ملاقاتیں یقینی بنائی جائیں، کتابیں، اخبارات، ٹیلی ویژن کی سہولت بحال کی جائے، عمران خان کی بیٹوں سے ٹیلیفون پر بات کرائی جائے؛ سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو 15 دن میں عملدرآمد رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جیل سہولیات کے کیس پر اہم فیصلہ سناتے ہوئے سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو حکم دیا ہے کہ دونوں کو قیدِ تنہائی میں نہ رکھا جائے اور آئین و قانون کے مطابق تمام بنیادی حقوق اور سہولیات فراہم کی جائیں۔ اطلاعات کے مطابق عدالت نے اڈیالہ جیل انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی باہم ملاقات کے ساتھ ساتھ ان کی اپنے اپنے اہل خانہ سے جیل قوانین کے مطابق ملاقاتیں یقینی بنائی جائیں، کتابیں، اخبارات اور ٹیلی ویژن کی سہولت فوری طور پر بحال کی جائے، عمران خان کو روزانہ ایک گھنٹے ایسی جگہ واک کی اجازت دی جائے جہاں باقاعدہ انسانی میل جول ممکن ہو، جن افراد سے ملاقات ہوگی ان کا ریکارڈ بھی رکھا جائے گا۔
عمران خان کے لیگل کونسل خالد یوسف چوہدری نے فیصلے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ عدالتی حکم کے تحت سابق وزیراعظم کو بیرونِ ملک مقیم اپنے بیٹوں کے ساتھ آڈیو، ویڈیو اور واٹس ایپ کالز کے ذریعے رابطے کی اجازت ہوگی، تاہم عدالت نے واضح شرط عائد کی ہے کہ اگر ان ٹیلی فونک گفتگو یا ویڈیو کالز کو ریکارڈ کر کے کسی بھی قسم کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا تو جیل حکام یہ سہولت واپس لے سکتے ہیں۔
ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ اہم نقطہ بھی شامل کیا ہے کہ اگر جیل حکام عمران خان یا بشریٰ بی بی کو قانون یا عدالت کے تحت حاصل کسی بھی ریلیف سے محروم کرتے ہیں، تو انہیں اس محرومی کی تحریری وجوہات اور جواز فراہم کرنا ہوں گے، عدالت نے سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو 15 روز کے اندر تمام احکامات پر عملدرآمد رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

WhatsApp
Get Alert