عمران خان سے بہنوں کی ملاقات مبینہ طور پر پھر بند ہوگئی، توہینِ عدالت کی دوسری درخواست دائر

منگل کو عمران خان کی فیملی سے ملاقات نہیں کروائی گئی اور نہ ہی انہیں بیٹوں سے بات کرنے کی اجازت دی گئی؛ سپریم کورٹ میں دائر پٹیشن میں عظمیٰ خان کا مؤقف


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)سابق وزیراعظم عمران خان کے قانونی حقوق کی بحالی اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے پر ان کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی دوسری درخواست دائر کردی گئی۔ اس حوالے سے عمران خان کے لیگل کونسل خالد یوسف چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں بتایا کہ سپریم کورٹ نے 18 اگست کو اپنے فیصلے میں بانی پی ٹی آئی کو ان کے اہلِ خانہ سے ملاقات اور بیرونِ ملک مقیم بچوں سے فون پر گفتگو کی سہولت فراہم کرنے کی واضح ہدایات جاری کی تھیں۔

ان کا کہنا ہے کہ عدالتِ عظمیٰ کے ان احکامات کے باوجود گزشتہ منگل کو عمران خان کی فیملی سے ملاقات نہیں کروائی گئی اور نہ ہی انہیں بیٹوں سے بات کرنے کی اجازت دی گئی، اس رویے پر عدالت کے فیصلے کی عدول حکمی کا الزام عائد کرتے ہوئے توہینِ عدالت کی نئی درخواست داخل کی گئی ہے، جسے ڈائری نمبر 18350/2026 الاٹ کر دیا گیا ہے۔
خالد یوسف چوہدری نے مزید بتایا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی گزشتہ روز ہی بانی پی ٹی آئی کی قیدِ تنہائی ختم کرنے، فیملی سے ملاقات کروانے اور بچوں سے ٹیلی فونک و واٹس ایپ رابطے بحال کرنے کا حکم دیا ہے، جس کی مصدقہ کاپی آج موصول ہونے کا امکان ہے، دونوں اعلیٰ ترین عدالتوں کے احکامات موجود ہونے کے باوجود جیل حکام کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں، جس کے خلاف آئینی حقوق کی بحالی کے لیے تمام تر قانونی چارہ جوئی عمل میں لائی جا رہی ہے، درخواست کو کرمنل اوریجنل نمبر الاٹ ہونے کے بعد اسے جلد سماعت کے لیے مقرر کروا لیا جائے گا۔

WhatsApp
Get Alert