’شادی کے بعد مجھے چمڑے کے بیلٹوں سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا‘

کہا جاتا تھا اولاد پیدا کرلو، اولاد کیسے پیدا کریں جب آپ کو چمڑے کے بیلٹ سے مارا جائے، جس کی وجہ سے ہونے والی اولاد بھی ضائع ہوگئی؛ اداکارہ فریال گوہر کا ٹی وی پروگرام میں گفتگو کے دوران انکشاف


کراچی(قدرت روزنامہ)پاکستان ٹیلی ویژن کی نامور اور سینئر اداکارہ فریال گوہر نے اپنی 9 سالہ شادی شدہ زندگی کے دوران پیش آنے والے مبینہ گھریلو تشدد کے واقعات پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ شادی کے بعد مجھے چمڑے کے بیلٹوں سے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ ندا یاسر کے مارننگ شو میں گفتگو کرتے ہوئے فریال گوہر نے بتایا کہ وہ 23 سال کی عمر میں پسند کی شادی کرکے گئیں، لیکن ان کی ازدواجی زندگی انتہائی مظلومانہ گزری، چمڑے کے بیلٹوں سے تشدد کیا جاتا تھا، جس کے باعث ان کے گردے متاثر ہوئے، کئی بار آپریشنز کروانا پڑے اور ان کا حمل تک ضائع ہو گیا، اپنے جسم پر تشدد کے نیل چھپانے کے لیے میک اپ کا سہارا لیتی تھی اور زخموں کے باعث کلاسیں بھی چھوڑنا پڑتی تھیں۔


اداکارہ کا کہنا تھا کہ تشدد کے ساتھ ساتھ ان پر سخت قسم کی ناپسندیدہ پابندیاں بھی عائد تھیں، انہیں اکیلے باہر نکلنے یا سیر کرنے کی اجازت نہیں تھی اور سفر کے دوران رکشے کو پردے سے ڈھانپا جاتا تھا، اپنی ساس کا شٹل کا برقع پہننے پر بھی مجبور کیا گیا، میں مالی یا خاندانی طور پر مجبور نہیں تھی لیکن معاشرتی دباؤ کے باعث 9 سال تک یہ ظلم سہتی رہی، میرا خاندان پہلے تو خوش تھا کہ لڑکا سید ہے مگر بعد میں خاندان نے بھی اعتراف کیا کہ جو شخص اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھائے وہ کبھی اچھا انسان یا سید نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں 80 فیصد خواتین گھریلو تشدد کا شکار ہیں جن میں پڑھی لکھی اور خودمختار خواتین بھی شامل ہیں، اس تجربے نے مجھے یہ سمجھنے میں مدد دی کہ گھریلو تشدد صرف جسمانی مار پیٹ تک محدود نہیں بلکہ تنہائی، سماجی دباؤ اور ذاتی آزادی چھین لینا بھی اس کا حصہ ہو سکتا ہے، خواتین ایسے ظالمانہ حالات سے باہر نکلیں اور اپنے بہتر مستقبل کے لیے آواز اٹھائیں، سب سے اہم بات یہ ہے کہ انسان کو احساس ہو کہ وہ اس سے بہتر زندگی کا حق دار ہے اور پھر ایسے حالات سے باہر نکلنے کی ہمت کرے۔

WhatsApp
Get Alert