برطانیہ اور جمائمہ کو ضمانتی بنانے کی کوششوں کا انکشاف، عمران خان کا سیاسی خاموشی سے انکار
عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائمہ، ان کے بیٹوں اور برطانوی حکومت کو یہ ضمانت دینے پر آمادہ کرنے کی کوششیں جاری ہیں کہ اگر عمران خان کو برطانیہ بھیجا گیا تو وہ سیاسی بیان نہیں دیں گے، لیکن عمران خان نے اس پر آمادگی ظاہر نہیں کی؛ ڈان اخبار کی خبر

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)پاکستان تحریک انصاف کے ایک رہنماء نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر انکشاف کیا ہے کہ پارٹی عمران خان سے ملاقات کی اجازت ملنے کی توقع کر رہی تھی لیکن ملاقات سے انکار کرکے پارٹی کو یہ واضح پیغام دے دیا گیا ہے کہ وہ یہ بھول جائیں کہ حالات بہتر ہو رہے ہیں۔ ڈان اخبار کے مطابق پی ٹی آئی کے رہنما کا کہنا تھا کہ جیل انتظامیہ اور حکام کے سخت رویئے کے باوجود عمران خان اپنے سیاسی موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں، انہوں نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے واضح پیغام دیا ہے کہ اگر انہیں طبی بنیادوں پر ہسپتال بھی منتقل کر دیا جائے، تب بھی لانگ مارچ ہر صورت منعقد ہوگا۔

پی ٹی آئی رہنماء نے مزید خدشہ ظاہر کیا کہ اگر بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ہسپتال منتقل کیا بھی گیا تو پانچ یا چھ دنوں کے علاج کے بعد انہیں بنی گالا بھیجنے کے بجائے دوبارہ جیل ہی منتقل کیا جائے گا، ایک سوال کے جواب میں پی ٹی آئی کے سینئر رہنما نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کو بیرونِ ملک یعنی برطانیہ بھیجنے کی پسِ پردہ کوششیں کی جا رہی ہیں، اس وقت ایسی کوششیں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کوشش ہورہی ہے کہ عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمیما گولڈ اسمتھ، ان کے دونوں بیٹوں اور برطانوی حکومت کو اس بات کا ضامن بنایا جائے کہ اگر بانی پی ٹی آئی برطانیہ منتقل ہوتے ہیں تو وہ وہاں سے کوئی بھی سیاسی بیان جاری نہیں کریں گے اور مکمل خاموشی اختیار کریں گے، تاہم عمران خان نے ان تمام تجاویز اور شرائط پر کسی بھی قسم کی آمادگی ظاہر نہیں کی۔
