موبائل فونز پر عائد ٹیکسوں میں کمی کی سفارش کردی گئی
حکومت مختلف لیویز اور ٹیکس لگا کر عوام کیلئے مشکلات پیدا کر رہی ہے، فوری ایک فعال نظام تشکیل دیں اور موبائل فونز پر ٹیکسوں میں نمایاں کمی لائیں؛ سینیٹ قائمہ کمیٹی کی کسٹم حکام کو ہدایت

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ نے ملک میں درآمد شدہ موبائل فونز کی قیمتوں اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں کا جائزہ لیتے ہوئے حکومت کو موبائل فونز پر ٹیکسوں کی شرح میں کمی کرنے کی سفارش کردی۔ اطلاعات کے مطابق سینیٹر رانا محمود الحسن کی زیرِ صدارت ہونے والے اس اجلاس میں پی ٹی اے، ایف بی آر اور کابینہ سیکریٹریٹ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ درآمد شدہ موبائل فونز کی حقیقی قیمتیں متعین کرنے کیلئے کسٹم حکام کو ایک شفاف اور مناسب طریقہ کار وضع کرنا ہوگا، کمیٹی نے اس پر کسٹم حکام کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر ایک فعال نظام تشکیل دیں اور موبائل فونز پر ٹیکسوں میں نمایاں کمی لائیں۔
بتایا گیا ہے کہ اجلاس کے دوران موبائل فونز پر ٹیکسیشن کی افادیت پر بھی کھل کر بات ہوئی، سینیٹر عبد القادر نے کہا کہ اس نقطے پر بھی غور کی ضرورت ہے کہ آیا عام استعمال کے موبائل فونز پر ٹیکس عائد ہونا بھی چاہیے یا نہیں؟ اس پر ایف بی آر حکام نے جواب دیا کہ ٹیکس لگانے یا ختم کرنے کا حتمی اور قانونی اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے۔ اس موقع پر سینیٹر سعدیہ عباسی نے حکومتی پالیسیوں پر شدید نقطہ نظر رکھتے ہوئے کہا کہ ’حکومت مختلف لیویز اور ناگفتہ بہ ٹیکس لگا کر عوام کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے، حکومت کا کام عام صارفین کا استحصال کرنا نہیں بلکہ ان کے لیے کاروباری آسانیاں پیدا کرنا ہے‘ جب کہ سینیٹر دلاور خان نے نشاندہی کی کہ ’پاکستان کی معاشی اور تجارتی پالیسیوں میں طویل مدتی حکمتِ عملی کا شدید فقدان نظر آتا ہے‘۔
معلوم ہوا ہے کہ اجلاس کے اختتام پر کیبنٹ سیکریٹری کامران علی افضل نے کمیٹی کو بتایا کہ ملک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کا موجودہ نظام مالیاتی شعبے میں ایک انقلاب لا رہا ہے، انہوں نے موبائل فونز کی خریدو فروخت پر مزید سیلز ٹیکس عائد کرنے کی کھل کر مخالفت کی تا کہ ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو نقصان نہ پہنچے۔
