پنجاب میں بھارت سے زیادہ پشتونوں کو خطرہ سمجھا جانا انتہائی تشویشناک ہے: اصغر خان اچکزئی
موجودہ حالات میں پشتونوں کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا، قبائلی تنازعات کا خاتمہ ناگزیر ہے: صوبائی صدر اے این پی

نفرتیں اور دشمنیاں معاشرے کو کمزور کرتی ہیں، امن اور مفاہمت کی طرف آنا ہوگا: مرغہ زکریازئی جرگے سے خطاب
مرغہ زکریازئی (ڈیلی قدرت کوئٹہ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں پشتونوں کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ مستقبل کے حالات کس سمت جارہے ہیں، کیونکہ حالات خود بخود بہتر ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔ پشتون معاشرے میں جاری قبائلی تنازعات اور دشمنیوں کے خاتمے کے لیے اجتماعی اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرغہ زکریازئی میں عبدالہادی کاکڑ کے شہید بیٹے شمشاد خان کاکڑ کے تصفیے کے موقع پر منعقدہ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اصغر خان اچکزئی نے کہا کہ فریقین کی جانب سے باہمی رضامندی اور جرگے کے ذریعے تنازع کا تصفیہ ایک مثبت اور قابلِ تحسین اقدام ہے۔ اگر قبائلی تنازعات کو اسی طرح بات چیت، جرگوں اور باہمی اتفاقِ رائے کے ذریعے حل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے تو معاشرے میں امن، بھائی چارے اور استحکام کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ قبائلی دشمنیاں صرف خاندانوں تک محدود نہیں رہتیں بلکہ پورے معاشرے کو متاثر کرتی ہیں۔ ایک تنازع کئی نسلوں تک جاری رہ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ معاشرتی اور معاشی ترقی بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے پشتون مشران، سیاسی رہنماں اور قبائلی عمائدین کو اپنا کردار ادا کرتے ہوئے لوگوں کو دشمنیوں کے بجائے امن اور مفاہمت کی جانب لانا ہوگا۔اے این پی کے صوبائی صدر نے موجودہ سیاسی و سیکیورٹی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج پنجاب میں بھارت کے مقابلے میں پشتونوں کو زیادہ خطرہ سمجھا جارہا ہے، جو انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔ پشتونوں کو اس صورتحال کے محرکات اور مستقبل پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ نفرت، بداعتمادی اور باہمی تنازعات کسی بھی معاشرے کو کمزور کرتے ہیں، جبکہ اتحاد، سیاسی شعور اور باہمی مشاورت قوموں کو مضبوط بناتے ہیں۔ موجودہ حالات میں پشتون معاشرے کے تمام طبقات کو اختلافات ختم کرکے امن، ترقی اور اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔
