پہاڑ اور کلاشنکوف نہیں، قلم اور کتاب ہمارا ہتھیار ہے: مولانا ہدایت الرحمن بلوچ
قوم پرستوں اور مذہب پرستوں کو چیلنج کرتا ہوں جماعت اسلامی کی طرح عوام کی خدمت کر کے دکھائیں: امیر جماعت اسلامی بلوچستان

قومی خزانہ ہمارے حوالے کیا جائے، کوئی بے روزگار نہیں رہے گا: نصیرآباد میں الخدمت بنو قابل تقریب سے خطاب
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) امیر جماعت اسلامی بلوچستان، ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ نوجوانوں سے کہتا ہوں کہ پہاڑ نہیں، سڑک اور کلاشنکوف نہیں، قلم وکتاب ہمارا ہتھیار ہے۔ اس جدوجہد میں ہر بلوچ، ہر پشتون، ہر مظلوم اور اقلیتی برادری ہمارا ساتھ دے۔ عوام ترقی، خوشحالی،امن اور انصاف کے لیے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔حکومت، اختیار اور قومی خزانہ ہمارے حوالے کیا جائیہم ثابت کریں گے کہ کوئی فرد بے روزگار نہیں رہے گا،بدامنی،بے روزگاری اور بدعنوانی کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ تمام قوم پرست،مذہب پرست،قومی و مقامی سیاسی جماعتوں کو چیلنج کرتا ہوں کہ جماعت اسلامی کی طرح نوجوانوں کو ہنر اور تعلیم فراہم کرکے دکھائیں، یتیموں کی کفالت کرکے دکھائیں، معیاری ہسپتال اور کامیاب تعلیمی ادارے قائم کرکے دکھائیں۔ عوام نے ووٹ کے ذریعے جماعت اسلامی پر اعتماد کیا تو ہم بلوچستان میں مزید عوامی اور انقلابی تبدیلی لائیں گے۔ہم سیاست کو اقتدار کے حصول کے بجائے عوام کی خدمت، تعلیم، صحت، روزگار اور خوشحالی کا ذریعہ بنانا چاہتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نصیرآباد میں الخدمت فانڈیشن بلوچستان کے بنو قابل سرٹیفکیٹس ایوارڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے نائب امیر جماعت اسلامی بلوچستان وامیرضلع نصیر آباد بشیر احمد ماندائی، پروفیسر محمد ابراہیم ابڑو، لعل بخش کھوسہ صدر کسان بورڈ بلوچستان، باز محمد صابر صدر تنظیم اساتذہ بلوچستان الخدمت بنوقابل پروگرام ڈائریکٹر طیب فریدخان،سیٹھ تارا چند صدر ہندو پنچائت نصیر آباد کامریڈ تاج بلوچ صدر انجمن تاجران غلام حسین تنیو صدر الخدمت نصیر آباد،خاوند بخش مینگل امیر شہر ڈیرہ مراد جمالی اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر طلبہ و طالبات اور نوجوانوں اورمعززین میں سرٹیفکیٹس اور شیلڈز تقسیم کی گئیں۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے مزید کہا کہ تعلیم و ترقی کی راہ میں غربت اور مایوسی کو رکاوٹ نہ بننے دیں۔ تشدد اور نفرت کا راستہ اختیار نہ کریں۔ تمام دروازے بند ہوسکتے ہیں، لیکن اللہ کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے۔ ہمیں اللہ سے امید ہے، ہم مایوس نہیں ہوں گے۔ خواہشات اور خوابوں سے نہیں بلکہ محنت، عزم اور مسلسل جدوجہد سے کامیابی حاصل ہوگی۔ اللہ کے سوا کسی سہارے کے بغیر محنت اور کوشش سے تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی بغیر اقتدار کے تعلیم اور صحت کے بڑے بڑے منصوبے چلا رہی ہے۔ الخدمت فانڈیشن بلوچستان بغیر کسی حکومتی مدد کے جعفرآباد میں 40 کروڑ روپے کی لاگت سے ہسپتال تعمیر کررہی ہے، بیلہ میں یتیم بچوں کی کفالت، تعلیم و تربیت کے لیے آغوش سینٹر قائم کیا جارہا ہے، جبکہ کوئٹہ میں 40 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک بڑا ہسپتال تعمیر کیا گیا ہے۔ گوادر میں منشیات سے متاثرہ افراد کے علاج کے لیے مرکز قائم کیا گیا ہے۔ بلوچستان کے ہزاروں طلبہ و نوجوانوں کو بنو قابل پروگرام کے ذریعے تعلیم اور ہنر سے آراستہ کیا جارہا ہے۔ ہم قوم کی دیانت داری سے خدمت کو عبادت سمجھتے ہیں۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان تمام خدمات کے باوجود قوم جماعت اسلامی کو ووٹ نہیں دیتی، جس کی وجہ سے آج ہم مسائل کے گرداب میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اگر ریاست انصاف پر قائم ہو اور حکمران دیانت دار ہوں تو الخدمت فانڈیشن جیسے اداروں کو ان کاموں کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ہر شہری کو تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف کی بنیادی سہولیات فراہم کرے۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے تمام قوم پرست، مذہب پرست، قومی و مقامی سیاسی جماعتوں کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی اور الخدمت فانڈیشن کی طرح دیانت داری سے عوام کی خدمت کرکے دکھائیں۔ قومی خزانہ ہمارے ہاتھ میں دے دیں، ہم بلوچستان بھر میں کوئی بے سہارا نہیں رہنے دیں گے، روزگار کے مواقع پیدا کریں گے، کاروبار کے مواقع فراہم کریں گے، بلاسود قرضے دیں گے اور غربت، بے روزگاری، بدامنی اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کریں گے۔ انہوں نے نوجوانوں کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ بندوق نہیں، قلم وکتاب؛ نفرت نہیں، تعلیم؛ تشدد نہیں، جمہوری جدوجہد کو اپنا راستہ بنائیں۔ نوجوان اپنی صلاحیتیں تعلیم، ہنر اور مثبت سرگرمیوں میں استعمال کریں، کیونکہ بلوچستان کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔ ہم مایوسی نہیں بلکہ امید، نفرت نہیں بلکہ محبت، اور انتشار نہیں بلکہ اتحاد کے ذریعے ایک پرامن، خوشحال اور ترقی یافتہ بلوچستان بنائیں گے۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ پہاڑ نہیں، سڑک؛ کلاشنکوف نہیں، قلم وکتاب ہمارا ہتھیار ہے۔ اس جدوجہد میں ہر بلوچ، ہر پشتون، ہر مظلوم اور ہر اقلیتی برادری ہمارا ساتھ دے۔
