صوبہ خون اور بدامنی کی کیفیت سے گزر رہا ہے، حکومتی ذمہ داران مراعات کی بندر بانٹ میں مصروف ہیں ” بلوچستان مزید انتشار اور تباہی کا متحمل نہیں ہو سکتا، تمام سیاسی قوتوں کو ذاتی مفادات سے بالاتر ہونا پڑے گا: سینیٹر مولانا عبدالواسع

موجودہ سنگین حالات میں سیاسی مصلحتوں کو پس پشت ڈال کر ہر ممکن معاونت کے لیے تیار ہیں: جمعیت علمائے اسلام کا مشترکہ اجلاس


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) جمعیت علماء اسلام بلوچستان کی صوبائی مجلس عاملہ و پارلیمانی اراکین کا مشترکہ اجلاس صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع کی زیرِ صدارت صوبائی سیکرٹریٹ جناح ٹاؤن کوئٹہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں بلوچستان کی موجودہ انتہائی تشویشناک، غیر یقینی اور بحرانی صورتحال کا مختلف پہلوؤں سے تفصیلی جائزہ لیا گیا اور صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال، مسلسل جانی نقصانات، عوامی مشکلات، معاشی تباہی اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے ناقابلِ تلافی نقصانات پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس نے دہشت گردی اور بدامنی کے واقعات میں سیکورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور بے گناہ شہریوں کی شہادتوں پر دلی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے شہدائ￿ کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی۔اجلاس میں اس امر پر واضح کیا گیا کہ جمعیت علماء اسلام بلوچستان موجودہ سنگین حالات میں تمام سیاسی مصلحتوں یا جماعتی تحفظات کو پس پشت ڈال کر صوبے کو موجودہ بحران سے نکالنے، امن و امان کی بحالی، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور بلوچستان کے وسیع تر مفاد کے لیے جو بھی سنجیدہ، آئینی، جمہوری اور مثبت اقدامات ضروری ہوں، جمعیت علمائ￿ اسلام ان میں اپنے تمام سیاسی تحفظات سے بالاتر ہوکر ہر ممکن معاونت اور حمایت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ اجلاس نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان کسی مزید انتشار، تصادم، بدامنی اور تباہی کا متحمل نہیں ہوسکتا، اس لیے تمام سیاسی قوتوں، ریاستی اداروں اور حکومتی ذمہ داران کو ذاتی، گروہی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہوکر صوبے کے مستقبل اور عوام کے تحفظ کو اولین ترجیح بنانا ہوگی۔اجلاس میں بلوچستان کے مختلف اضلاع میں جاری عوامی بحران، بدامنی، کاروباری سرگرمیوں کی بندش، روزگار کے مواقع میں کمی اور بنیادی سہولیات کی ابتر صورتحال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ مسلسل بدامنی نے پہلے ہی صوبے کی معیشت، تجارت، زراعت اور معمولاتِ زندگی کو شدید متاثر کیا ہے، جبکہ حالیہ واقعات کے نتیجے میں قومی شاہراہوں، پلوں، سڑکوں اور دیگر اہم سرکاری و عوامی انفراسٹرکچر کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ مواصلاتی رابطوں کے متاثر ہونے سے نہ صرف عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے بلکہ صوبے کے مختلف علاقوں کے درمیان معاشی اور سماجی رابطے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ اجلاس نے مطالبہ کیا کہ تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی فوری بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں تاکہ بلوچستان کو مزید تباہی اور عوام کو مزید مشکلات سے بچایا جاسکے۔اجلاس میں اس امر پر بھی شدید افسوس اور تشویش کا اظہار کیا گیا کہ ایک جانب بلوچستان خون، بدامنی اور خوف کی کیفیت سے گزر رہا ہے، عوام اپنے جان و مال کے تحفظ کے لیے پریشان ہیں اور صوبے کا انفراسٹرکچر تباہی کا شکار ہے، جبکہ دوسری جانب حکومتی ذمہ داران مراعات، عہدوں اور سرکاری ملازمتوں کی بندربانٹ کے معاملات میں باہمی کشمکش، الزام تراشی اور ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرانے میں مصروف ہیں۔ اجلاس نے مطالبہ کیا کہ سرکاری ملازمتوں، مراعات اور دیگر معاملات میں سامنے آنے والے الزامات کی شفاف، غیر جانب دار اور قابلِ اعتماد تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقائق عوام کے سامنے آسکیں اور کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کا راستہ روکا جاسکے۔اجلاس نے صوبائی اسمبلی کی موجودہ کارکردگی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اس وقت تاریخ کے انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے، مگر اسمبلی کے فورم پر صوبے کو درپیش امن و امان، معاشی بحران، عوامی تحفظ، تباہ شدہ انفراسٹرکچر، روزگار، تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی نوعیت کے مسائل پر سنجیدہ اور نتیجہ خیز بحث کے بجائے غیر ضروری اور ثانوی نوعیت کے امور کو ترجیح دی جارہی ہے۔ اجلاس نے اس امر پر زور دیا کہ صوبائی اسمبلی کو عوام کی حقیقی ترجمانی کرتے ہوئے بلوچستان کے بنیادی اور سنگین مسائل کے حل کے لیے اپنا آئینی اور جمہوری کردار مؤثر انداز میں ادا کرنا چاہیے۔اجلاس نے بین الصوبائی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے والے بیانات اور اقدامات پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا۔ شرکائ￿ نے ایک ذمہ دار منصب پر فائز شخصیت کی جانب سے بین الصوبائی کشیدگی اور نفرت کو ہوا دینے والے غیر ذمہ دارانہ بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ایسے طرزِ عمل کی فوری اور مؤثر روک تھام کی جائے۔ اجلاس نے واضح کیا کہ بلوچستان سمیت ملک کے تمام صوبوں کے عوام کے درمیان بھائی چارہ، باہمی احترام اور قومی یکجہتی کو ہر صورت برقرار رکھنا ہوگا، کیونکہ موجودہ حالات میں کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی یا غیر ذمہ دارانہ بیان بازی ملک اور خصوصاً بلوچستان کے لیے مزید مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔اجلاس میں جمعیت علمائ￿ اسلام بلوچستان کے تنظیمی امور کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا اور صوبے بھر میں جماعتی تنظیم کو مزید فعال، منظم اور متحرک بنانے کے حوالے سے مختلف امور پر غور کیا گیا۔ اس موقع پر قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن اور مرکزی جماعت کی جانب سے دی گئی ہدایات اور فیصلوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ان ہدایات پر من و عن عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے مختلف کمیٹیاں تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ صوبائی اور ضلعی سطح پر تنظیمی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے اور جماعتی نظم و ضبط کو مضبوط کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔اجلاس میں صوبے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں متعدد اہم فیصلے بھی کیے گئے، جن کی تفصیلات باقاعدہ صوبائی سرکلر کے ذریعے تمام متعلقہ اضلاع اور تنظیمی ذمہ داران تک پہنچائی جائیں گی۔ اجلاس نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جمعیت علمائ￿ اسلام بلوچستان عوام کے جان و مال کے تحفظ، امن کے قیام، آئین و جمہوریت کی بالادستی، صوبے کے حقوق کے تحفظ اور بلوچستان کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے اپنی سیاسی، جمہوری اور آئینی جدوجہد بھرپور انداز میں جاری رکھے گی۔

WhatsApp
Get Alert