پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے پر گاڑیوں کے کرایوں میں بڑا اضافہ

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 5 فیصد اضافے کا اعلان کردیا ہے، جبکہ حکومت سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی کا فیصلہ فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
صدر آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد ملک شہزاد اعوان نے کہا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے ٹرانسپورٹرز کے اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے، جس کے باعث موجودہ کرایوں پر مال برداری کا کاروبار جاری رکھنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔
انہوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور انہیں روزانہ کی بنیاد پر تبدیل کرنے کے حکومتی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس پالیسی سے نہ صرف ٹرانسپورٹرز بلکہ عام شہری اور کاروباری طبقہ بھی براہ راست متاثر ہورہا ہے۔
ملک شہزاد اعوان کا کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ حکومتی پالیسی کی ناکامی کا نتیجہ ہے، عوام پر ہر روز ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں کا بوجھ ڈالا جارہا ہے، جس سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے کے ساتھ روزگار کے مواقع بھی کم ہورہے ہیں۔
روزانہ کرایے بڑھانا نہیں چاہتے، ٹرانسپورٹرز
صدر گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز نہیں چاہتے کہ انہیں ہر روز پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی تبدیلی کرنا پڑے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ایندھن کی قیمتیں روزانہ تبدیل ہوں گی تو مال برداری کے کرایوں کو مستحکم رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔ انہوں نے وزیر پٹرولیم سے پالیسی پر نظرثانی کرنے اور قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی کا فیصلہ فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
ملک شہزاد اعوان نے خبردار کیا کہ موجودہ پالیسی سے حکومت کو خود بھی نقصان پہنچ سکتا ہے اور وزیر پٹرولیم کو اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
40 روز کیلئے مؤخر کی گئی تھی ہڑتال
گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر کے مطابق اگست میں ٹرانسپورٹرز کی جانب سے ملک گیر ہڑتال کی گئی تھی، جس دوران وزیر پٹرولیم نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ حکومتی یقین دہانی کے بعد ٹرانسپورٹرز نے اپنی ملک گیر ہڑتال 40 روز کے لیے مؤخر کردی تھی، تاہم مقررہ مدت کے دوران مطالبات پر خاطر خواہ پیش رفت نہ ہوئی تو ٹرانسپورٹرز دوبارہ ملک گیر ہڑتال کا راستہ اختیار کرسکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ٹرانسپورٹرز کے ساتھ کیے گئے معاہدوں اور وعدوں پر عملدرآمد کرنا ہوگا، بصورت دیگر گڈز ٹرانسپورٹرز اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
18 روز میں ڈیزل 23 اور پٹرول 25 روپے مہنگا ہونے کا دعویٰ
ملک شہزاد اعوان نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 18 روز کے دوران ڈیزل کی قیمت میں 23 روپے فی لیٹر جبکہ پٹرول کی قیمت میں 25 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس قدر اضافے کے باوجود گڈز ٹرانسپورٹرز کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے کوئی مؤثر ریلیف فراہم نہیں کیا جارہا۔
ان کے مطابق ڈیزل گڈز ٹرانسپورٹ کے بنیادی اخراجات میں شامل ہے، اس لیے اس کی قیمت میں اضافے سے براہ راست ٹرانسپورٹ آپریشن کی لاگت بڑھتی ہے۔ اس کے علاوہ گاڑیوں کی دیکھ بھال، ڈرائیورز اور دیگر آپریشنل اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
بیشتر مطالبات تاحال زیر التوا
صدر گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ٹرانسپورٹرز کے چند مطالبات تسلیم کیے گئے ہیں اور ان پر عملدرآمد بھی جاری ہے، تاہم بیشتر مطالبات تاحال التوا کا شکار ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ دسمبر اور اگست میں ہونے والی ملک گیر ہڑتالوں کے دوران وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے گڈز ٹرانسپورٹرز سے کیے گئے وعدوں پر فوری اور مکمل عملدرآمد کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹرانسپورٹرز پہلے ہی مسلسل بڑھتی ہوئی لاگت کا سامنا کررہے ہیں، اس لیے حکومت کو ٹرانسپورٹ کے شعبے کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہوگا۔
کرایوں میں اضافے کا اثر اشیائے ضروریہ پر پڑنے کا خدشہ
گڈز ٹرانسپورٹرز کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ کا اثر صرف ٹرانسپورٹ کے شعبے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات ملک بھر میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی پڑتے ہیں۔
ملک کے ایک حصے سے دوسرے حصے تک خوراک، سبزیاں، پھل، تعمیراتی سامان، صنعتی خام مال اور دیگر اشیائے ضروریہ کی ترسیل بڑی حد تک گڈز ٹرانسپورٹ کے ذریعے ہوتی ہے۔ ایسے میں مال برداری کے کرایوں میں اضافہ کاروباری لاگت بڑھا سکتا ہے، جس کا اثر بالآخر صارفین تک منتقل ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
ملک شہزاد اعوان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ تبدیلی کی پالیسی واپس لی جائے، ٹرانسپورٹرز سے کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد کیا جائے اور شعبے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے ٹرانسپورٹرز کے تحفظات دور نہ کیے اور معاہدوں پر عملدرآمد میں پیش رفت نہ ہوئی تو 40 روز کی مؤخر شدہ ہڑتال دوبارہ شروع کرنے سمیت ملک گیر احتجاج کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔
