انگلینڈ سے شکست کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم پر آئی سی سی کا ایک اور وار، بڑا جرمانہ عائد

انگلینڈ(قدرت روزنامہ)انگلینڈ کے ہاتھوں ہوم سیریز میں تاریخی وائٹ واش کا شکار ہونے والی پاکستانی کرکٹ ٹیم پر آئی سی سی نے سلو اوور ریٹ کے باعث 50 فیصد میچ فیس کا جرمانہ عائد کر دیا ہے، جبکہ 11 پوائنٹس کی کٹوتی کے بعد گرین کیپس ٹیسٹ چیمپئن شپ میں آخری نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لیے کرکٹ کے میدان سے بری خبروں کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ سیریز میں بدترین شکست کے بعد اب عالمی ادارے کی جانب سے بھی ٹیم کو کڑے انضباطی ایکشن کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
آئی سی سی کی سخت کارروائی اور بھاری جرمانہ
برمنگھم میں کھیلے گئے تیسرے اور آخری ٹیسٹ میچ میں سلو اوور ریٹ کی بناء پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے سخت ایکشن لیا ہے۔
میچ آفیشلز کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی ٹیم مقررہ وقت کے دوران 11 اوورز کم کرانے کی مرتکب پائی گئی ہے۔ اس ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی پاداش میں تمام پاکستانی کھلاڑیوں پر میچ فیس کا 50 فیصد جرمانہ عائد کر دیا گیا ہے۔
ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے پوائنٹس میں کٹوتی
آئی سی سی نے محض جرمانے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ سائیکل میں پاکستان کے 11 قیمتی پوائنٹس بھی کاٹ لیے ہیں۔
اس بڑی کٹوتی اور انگلینڈ کے خلاف عبرتناک شکست کے بعد ٹیسٹ رینکنگ میں پاکستانی ٹیم مزید ایک درجہ تنزلی کا شکار ہو کر پوائنٹس ٹیبل پر بالکل آخری نمبر پر آ گئی ہے۔
رینکنگ میں دیگر ٹیموں کی پوزیشن
ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کی موجودہ رینکنگ کے مطابق آسٹریلیا پہلے نمبر پر براجمان ہے جس نے اپنے پچھلے 10 میچوں میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے 8 فتوحات سمیٹی ہیں۔
اس فہرست میں جنوبی افریقا کا دوسرا، نیوزی لینڈ کا تیسرا، بھارت کا چوتھا اور انگلینڈ کا پانچواں نمبر ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیش کی ٹیم چھٹے اور سری لنکا 7ویں نمبر پر موجود ہے، جبکہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے ایک درجے ترقی پا کر 8ویں پوزیشن حاصل کر لی ہے اور پاکستان کو آخری نمبر پر دھکیل دیا ہے۔
یاد رہے کہ برمنگھم ٹیسٹ میں انگلینڈ نے پاکستان کو 8 وکٹوں سے شکست دے کر پہلی بار ہوم سیریز میں وائٹ واش کرنے کی تاریخ رقم کی ہے۔
اس پوری سیریز میں پاکستان کی بیٹنگ اور باؤلنگ دونوں ہی شعبوں میں کارکردگی توقعات کے برعکس انتہائی مایوس کن رہی۔
یہ تنزلی اچانک نہیں ہوئی، بلکہ پاکستان کی حالیہ ٹیسٹ کارکردگی مسلسل تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔
اس سے قبل گرین کیپس بنگلہ دیش کے خلاف بھی 0-2 سے ٹیسٹ سیریز ہار چکے ہیں، جس کے باعث اہم میچز میں ناکامیوں کا براہِ راست اثر ٹیم کی عالمی پوزیشن پر پڑ رہا ہے۔
پاکستانی ٹیم کی حالیہ کارکردگی محض تکنیکی خامیوں کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ یہ فیلڈ میں قیادت کے بحران اور گیم پلان کے مجموعی فقدان کو ظاہر کرتی ہے۔
سلو اوور ریٹ پر 11 اوورز کم کرانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ فیلڈ میں کپتان کا کنٹرول کمزور تھا اور ٹیم شدید دباؤ کا شکار تھی۔
ایک ایسے وقت میں جب ٹیم مسلسل شکستوں (جیسے بنگلہ دیش اور اب انگلینڈ کے خلاف) کے گرداب میں پھنسی ہو، نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر قیمتی پوائنٹس گنوانا کسی بھی صورت پیشہ ورانہ کرکٹ کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔
اگر پاکستان کو ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ میں اپنی ساکھ بچانی ہے، تو مینجمنٹ کو آئندہ میچز کے لیے ہنگامی بنیادوں پر فتوحات کا راستہ تلاش کرنا ہوگا، بصورت دیگر گرین کیپس کی رینکنگ مزید تباہ کن حد تک متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

WhatsApp
Get Alert