بلوچستان اس وقت انتہائی تشویشناک، نازک اور مخدوش صورتحال سے دوچار ہے، ایک طرف بدامنی، بے یقینی، معاشی مشکلات اور سیاسی عدم استحکام نے عوام کو شدید اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے،سینیٹر مولانا عبدالواسع


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ بلوچستان اس وقت انتہائی تشویشناک، نازک اور مخدوش صورتحال سے دوچار ہے، ایک طرف بدامنی، بے یقینی، معاشی مشکلات اور سیاسی عدم استحکام نے عوام کو شدید اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے جبکہ دوسری جانب سیاسی سطح پر ایک دوسرے کے خلاف جارحانہ بیانات، الزام تراشی اور باہمی محاذ آرائی کا سلسلہ صوبے کے پہلے سے مایوس اور مضطرب عوام کی بے چینی میں مزید اضافہ کر رہا ہے، ایسے حالات میں سیاسی قیادت اور تمام ذمہ دار اسٹیک ہولڈرز کو محض سیاسی بیان بازی، پوائنٹ اسکورنگ اور ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے سنجیدہ، حقیقت پسندانہ، قابلِ عمل اور نتیجہ خیز حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی، اگر موجودہ معروضی حالات سے نکلنے کے لیے اب تک بامقصد تجاویز، واضح ترجیحات اور قابلِ عمل لائحہ عمل مرتب کیا جاتا تو صورتحال میں بہتری کے لیے خاطرخواہ پیش رفت ہوچکی ہوتی، ، انہوں نے کہا کہ دھاندلی زدہ انتخابات اور انتخابی عمل میں ہونے والی بے ضابطگیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی سیاسی جماعت جمعیت علما اسلام ہے، جمعیت کو انتخابات اور سیاسی عمل کے حوالے سے سنگین تحفظات ہیں، تاہم ان تحفظات کے باوجود جمعیت نے غیر ذمہ دارانہ طرزِ سیاست، انتشار اور محاذ آرائی کے بجائے ہمیشہ قومی و صوبائی مفاد، سیاسی استحکام اور عوام کے وسیع تر مفاد کو مقدم رکھا ہے اور بلوچستان کو موجودہ بحران سے نکالنے، سیاسی قوتوں کے درمیان رابطے اور مفاہمت پیدا کرنے اور عوامی مسائل کو ہر فورم پر اجاگر کرنے کے لیے اپنا مؤثر اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور آئندہ بھی اس قومی و صوبائی ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹے گی، اختلافِ رائے جمہوریت کا بنیادی تقاضا ہے لیکن سیاسی اختلاف ، سیاسی رقابت کو قومی تقسیم میں تبدیل کرنا کسی صورت بلوچستان کے مفاد میں نہیں، موجودہ حالات سیاسی قیادت سے تحمل، تدبر، دوراندیشی اور بالغ نظری کا تقاضا کرتے ہیں، قومی امور میں بحیثیت ذمہ دار پاکستانی اپنے آئینی، قومی اور اجتماعی فرائض کی ادائیگی ہر شہری کی ذمہ داری ہے، سیاسی معاملات میں اتفاقِ رائے، سنجیدگی، باہمی مشاورت اور سیاسی تدبر کو فروغ نہ دیا گیا تو مسائل کے حل کے بجائے معاملات مزید پیچیدہ اور بحران سنگین تر ہوتے جائیں گے، بلوچستان کو مزید تقسیم، تصادم اور بے یقینی کی نہیں بلکہ سیاسی بصیرت، قومی یکجہتی، باہمی اعتماد اور اجتماعی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے، بلوچستان کی محرومیوں، پسماندگی، بے روزگاری، امن و امان، وسائل پر اختیار، آئینی حقوق، سیاسی نمائندگی اور عوامی اعتماد کے دیرینہ مسائل کو نظر انداز کرکے پائیدار امن اور استحکام حاصل نہیں کیا جاسکتا، عوام کے حقیقی مسائل کو محض انتظامی اقدامات یا طاقت کے ذریعے حل نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کے لیے سیاسی عمل کو مضبوط، عوامی اعتماد کو بحال اور آئینی و جمہوری راستے کو مؤثر بنانا ہوگا، بلوچستان کے عوام کو اعتماد میں لے کر ان کے جائز آئینی، سیاسی اور معاشی مطالبات پر سنجیدگی سے غور اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی سرزمین، وسائل، امن، قومی وحدت اور مستقبل کا تحفظ صرف کسی ایک جماعت، ادارے یا طبقے کی ذمہ داری نہیں بلکہ صوبے کے ہر شہری کا قومی، آئینی اور اخلاقی فریضہ ہے، ہمیں اپنے باہمی اختلافات کو جمہوری اور سیاسی دائرے تک محدود رکھتے ہوئے ہر اس کوشش کو ناکام بنانا ہوگا جو بلوچستان کے عوام کو باہم تقسیم کرنے، صوبے میں انتشار پیدا کرنے، امن و امان کو سبوتاڑ کرنے یا قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کا باعث بنے، بیرونی مداخلت، سازش، انتشار اور ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ سیاسی شعور، قومی اتحاد، آئینی بالادستی اور اجتماعی ذمہ داری کے ساتھ ہی کیا جاسکتا ہے، بلوچستان کے عوام امن، عزت، ترقی، اپنے وسائل میں جائز حق، روزگار، سیاسی استحکام اور اپنے بچوں کے محفوظ مستقبل کے خواہاں ہیں، اس لیے تمام سیاسی قوتوں کو عوامی جذبات اور زمینی حقائق کا احترام کرتے ہوئے سنجیدہ، ذمہ دارانہ اور نتیجہ خیز سیاست کو فروغ دینا ہوگا، جمعیت علمائ￿ اسلام بلوچستان کے عوام کو کسی بھی مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑے گی اور صوبے کے امن، استحکام، جمہوری تسلسل، آئینی حقوق اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے اپنا مؤثر کردار بھرپور انداز میں جاری رکھے گی، کیونکہ بلوچستان کو موجودہ بحران سے نکالنے کا راستہ تصادم، الزام تراشی اور محاذ آرائی نہیں بلکہ بامقصد مکالمہ، سیاسی مفاہمت، انصاف، آئینی بالادستی، عوامی اعتماد اور حقیقی قومی اتفاقِ رائے سے ہی نکل سکتا ہے۔

WhatsApp
Get Alert