چند نشستوں اور محدود حلقوں تک رسائی رکھنے والی حکومت بلوچستان کی نمائندگی کے دعویدار نہیں ہو سکتے،ووٹ کی حرمت پر سمجھوتہ کرنے والے وسائل، صوبائی خودمختاری اور حقوق کی جنگ کیسے لڑیں گے؟، سینیٹر مولانا عبدالواسع
سیاسی انجینئرنگ اور فارم 47 کا تنازع جمہوریت کے لیے خطرہ ہے

بلوچستان کے باشعور عوام اقتدار کی سوداگری کرنے والوں کو مسترد کر چکے ہیں، جمعیت علمائے اسلام حقیقی مینڈیٹ پر سمجھوتہ نہیں کرے گی:
کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ)جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع جنرل سیکرٹری آغا محمود شاہ نے کہاکہ جمعیت علماء اسلام بلوچستان کی وہ واحد سیاسی جماعت ہے جس کی تنظیمی ساخت، سیاسی جڑیں اور عوامی پذیرائی صوبے کے طول و عرض میں یکساں طور پر موجود ہیں اور جو بلوچستان کے مختلف علاقوں، طبقات اور اقوام کی حقیقی اور ہمہ گیر سیاسی نمائندگی کا حق رکھتی ہے، اس کے برعکس دو چار اضلاع یا محدود انتخابی حلقوں تک سیاسی اثر رکھنے والی جماعتوں کی جانب سے پورے بلوچستان کی نمائندگی کا دعویٰ سیاسی حقیقت اور زمینی حقائق دونوں سے متصادم ہے، بلوچستان کی نمائندگی کسی مخصوص حلقے کی چند نشستوں، اقتدار کے ایوانوں میں موجودگی یا حکومتی منصب کا نام نہیں بلکہ یہ وسیع تر عوامی مینڈیٹ، سیاسی اعتماد، آئینی حقوق اور صوبے کے اجتماعی مفادات کی مؤثر ترجمانی کا تقاضا کرتی ہے، انتخابات میں عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے والے انتخابی بندوبست اور سیاسی انجینئرنگ کے نتیجے میں اقتدار حاصل کرنے والے عناصر محض اقتدار کی کرسی سنبھال لینے سے بلوچستان کے حقیقی نمائندے نہیں بن سکتے، جو لوگ عوامی حقِ نمائندگی، ووٹ کی حرمت اور مینڈیٹ کی امانت پر سمجھوتہ کرسکتے ہیں، وہ عوامی وسائل، صوبائی خودمختاری، معدنی و قدرتی وسائل پر آئینی اختیار، معاشی حقوق اور اہلِ بلوچستان کے مستقبل کا مقدمہ کس اصولی قوت کے ساتھ لڑیں گے؟ عوامی مینڈیٹ کسی فرد یا جماعت کی عطا نہیں بلکہ ووٹر کی امانت ہے، اس امانت میں خیانت سیاسی اعتبار اور جمہوری ساکھ دونوں کو مجروح کرتی ہے، بلوچستان کی سیاست کو بند کمروں کی مفاہمت، محلاتی سازشوں، طاقت کے مراکز کی مداخلت اور اقتدار کی تقسیم کے غیرشفاف فارمولوں کے بجائے شفاف انتخابی عمل، آئینی بالادستی اور عوامی حقِ حاکمیت کے اصولوں پر استوار ہونا چاہیے، بدقسمتی سے بعض عناصر نے جمہوری لبادہ اوڑھ کر ایسی سیاست کو فروغ دیا جس میں عوامی فیصلے کی بجائے اقتدار کا حصول مرکزی مقصد بن گیا، جب عوامی رائے کو انتخابی انجینئرنگ، مفاداتی سمجھوتوں اور پسِ پردہ سیاسی جوڑ توڑ کے ذریعے تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے تو جمہوریت کا آئینی ڈھانچہ اپنی جگہ موجود رہتا ہے لیکن اس کی روح مجروح ہوجاتی ہے، فارم 45 اور فارم 47 کا تنازع اسی انتخابی بحران اور مینڈیٹ کی صحت سے متعلق پیدا ہونے والے بنیادی سوالات کا نمایاں استعارہ بن چکا ہے، یہ معاملہ محض دو انتخابی فارمز کے اختلاف تک محدود نہیں بلکہ انتخابی شفافیت، ووٹ کی حرمت، عوامی فیصلے کی بالادستی اور جمہوری ساکھ کا سوال ہے، اقتدار کی منڈی میں ضمیر کی قیمت لگانے اور سیاسی وفاداریوں کو مفاداتی ترازو میں تولنے کا کلچر کسی بھی معاشرے کے جمہوری اداروں کو اندر سے کمزور کرتا ہے، بلوچستان کے عوام اب اس سیاسی بندوبست کو محض نعروں اور دعوؤں کی بنیاد پر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں، ان کا سیاسی شعور اب نمائندگی اور اقتدار، مینڈیٹ اور مصنوعی اکثریت، عوامی اختیار اور محلاتی فیصلے کے درمیان واضح امتیاز قائم کرچکا ہے، اس لیے کسی جماعت یا فرد کی سیاسی کریڈیبلٹی کا پیمانہ اس کا سرکاری عہدہ نہیں بلکہ اس کا عوامی مینڈیٹ، اصولی مؤقف، سیاسی جدوجہد اور بلوچستان کے اجتماعی حقوق کے لیے عملی کردار ہوگا، جمعیت علمائ اسلام بلوچستان عوام کے حقِ حاکمیت، شفاف انتخابی عمل، حقیقی جمہوری مینڈیٹ، صوبائی خودمختاری، وسائل پر آئینی حق اور بلوچستان کے اجتماعی مفادات کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی، اہلِ بلوچستان شعوری بنیادوں پر ان تمام سیاسی کرداروں کی کریڈیبلٹی کو چیلنج کرتے رہیں گے جنہوں نے عوامی مینڈیٹ کو اقتدار کی سوداگری کا ذریعہ بنایا، کیونکہ سیاسی تاریخ میں عہدے عارضی ہوتے ہیں، اقتدار کے بندوبست بدلتے رہتے ہیں، مگر عوامی اعتماد، ووٹ کی حرمت اور اصولی سیاست ہی وہ معیار ہیں جن کے سامنے ہر مصنوعی مینڈیٹ بالآخر بے نقاب ہوجاتا ہے۔
