پشتون قومی تحریک کو کمزور کرنے کی سازشیں ناممکن ہیں، عوام ظلم اور آمریت کے خلاف مزاحمت جاری رکھیں: مختار خان یوسفزئی

سوات سے کوئٹہ تک مصنوعی دہشتگردی مسلط، معدنی وسائل اور زمینوں پر قبضے کی سازشیں جاری ہیں: شریک چیئرمین پشتونخوا نیپ


نئے صوبوں کا قیام وحدت کو کمزور کرنے اور ڈیموں پر قبضے کی استعماری چال ہے، افغان عوام کے حقوق کی بحالی ضروری ہے
سوات (ڈیلی قدرت) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے شریک چیئرمین مختار خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ پارٹی کے مرکزی سیکرٹریز ارواشاد باچا گل افغان اور ارواشاد شمشیر علی خان کے نام سے منسوب مرکزی کمیٹی کے اجلاس میں اراکین کی شرکت قابل تحسین ہے اور ہم نے قومی کانگریس میں کارکنوں سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہیں مرکزی کمیٹی کے اس تیسرے اجلاس سے پہلے قومی جرگے کا اجلاس کوئٹہ میں منعقد ہوا تھا اور ہمارے اجتماعی لیڈرشپ کی قیادت میں ہر قسم کے منفی طرز عمل اور منفی رویوں سے پاک جمہوری پارٹی کی تشکیل کی ہے اور اپنے ملت کی قومی آزادی، قومی خودمختیاری کے حصول کیلئے ایسے ہی وطن دوست انقلابی پارٹی کی ضرورت تھی جوہم اور آپ نے تشکیل دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ہر قسم کے جمہوری اور انسانی حقوق سلب کردیئے گئے ہیں اور ظالم قوتیں مظلوم عوام پر حملہ آور ہیں اور عوام کی مزاحمت کی آوازوں کو دبایا جارہا ہے جس طرح علی وزیر، صمد لالا، نوراللہ ترین، حنیف پشتون کی بلاجواز غیر قانونی گرفتاریاں اور سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف سینکڑوں درج غیر قانونی ایف آئی آرز اس کا ثبوت ہےاور موجودہ حکومت کا ظلم و جبر اور آمرانہ اقدمات ماضی کے ہر مارشل لائی حکومت سے زیادہ ہے وہ سوات میں مرکزی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سوات سے لیکر کوئٹہ تک مصنوعی دہشتگردی مسلط کی گئی ہے اور غریب عوام کو سر ومال کے عدم تحفظ کی صورتحال کا سامنا ہے اور پشتون دشمن قوتیں چاہتی ہے کہ ہمارے واضح قومی اہداف، قومی برابری، قومی متحدہ صوبہ کے حصول کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کریں اور پشتون قومی تحریک کو کمزور کرکے تحریک سے دستبردار کرائیں جو ناممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پشتونخوا میں جعلی الاٹمنٹ اور خیبر پشتونخوا میں سروے آف پاکستان کے نام سے ہمارے زرخیز زمینوں، پہاڑی سلسلوں، جنگلات اور معدنی وسائل پر قبضے کی سازشیں جاری ہے اور ملک کے حکمرانوں نے تمام عوام بلخصوص خیبر پشتونخوا، جنوبی پشتونخوا، بلوچستان پر بدترین حالت مسلط کی ہے اور ریاست اور اُن کے ادارے دن رات لوٹ مار کرکے ملک کے اقوام و عوام کا بدترین استحصال کررہے ہیں ملکی قرضے ایک لاکھ ہزار ارب سے زائد ہوگئے ہیں 8500 ارب سالانہ سود ادا کررہے ہیں اور حکومتی شاہی اخراجات حد سے زیادہ ہوچکے ہیں اور ملک کے حکمران موجودہ آئین ماننے سے انکاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کی سازشی پلان این ایف سی ایوارڈ پر ڈاکے اور معدنی وسائل پر ڈاکے کی سازش ہیں حالانکہ ہزارہ کا علاقہ پشتونخوا وطن کا تاریخی حصہ اور تمام پشتون آبادی ہے اور اُن کیلئے صوبے کا مطالبہ پنجاب کے لوگ کررہے ہیں اور ایسے نئے صوبے کے ذریعے استعماری پنجاب اباسین اور تربیلا ڈیم سمیت دوسرے بننے والے ڈیموں اور اُن کے آمدن پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں پشتونخوا وطن کی وحدت کو مزید کمزور کرنے کی سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پشتونخوا پر مسلط مصنوعی دہشتگردی اور مختلف ناموں سے مسلح جتھوں کی موجودگی کا مقصد ایک طرف افغانستان پر نئی جنگ مسلط کرنا ہے اور دوسری طرف ان عناصر کو پشتونوں اور بلوچوں کے خلاف سازش کی تیاری ہے جبکہ ہم نے ہمیشہ بلوچ قومی تحریک کی حقیقی مطالبات کی حمایت کی ہے لیکن پشتون وطن کو اپنا مورچہ بننے کی اجازت کسی کو نہیں دینگے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان پر بدترین حالات مسلط ہے اور اب اُن پر جو قوتیں برسراقتدار ہے وہ ہمارے استعماری حکمرانوں کی مدد سےبرسر اقتدار آئے تھے وہاں ہر قسم کے بنیادی انسانی حقوق کی پامالی ، خواتین کی تعلیم و حقوق پر بلاجواز پابندی عائد ہے اس دوران افغانستان سے 80 لاکھ افراد ہجرت کر چکے ہیں اور اب افغانستان میں ہر قسم کے ملی، جمہوری اور انسانی فکر کی آزادی کو ختم کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور دوسری طرف ہمارے ملک کے حکمران افغانستان کے برسراقتدار انتظامیہ پر دباؤ ڈال کر اپنی مرضی کے شرائط منوانا چاہتے ہیں جن کا ثبوت افغانستان پر وحشیانہ حملے ہیں جس میں حکومتی کارندوں کو نقصان پہنچانے کی بجائے عام غریب عوام کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور یہی سنگین صورتحال پشتونخوا وطن پر مسلط کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران ایک مستقل اور آزاد ملک ہے آمریکہ اور اُن کے ساتھی انہیں اپنے لئے خطرہ سمجھتے ہیں اس لئے تنزانیہ کے صدر کی گرفتاری کے بعد ایران پر حملہ کیا گیا لیکن ایران کے عوام نے متحد ہوکر مزاحمت جاری رکھی۔ انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدہ درحقیقت آمریکہ کے ذریعے نہ ہونے والے کام سرانجام دینے کیلئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پشتون قومی سیاسی تحریک کی تقسیم تاریخ کا المناک المیہ ہے پشتونخوانیپ نے مسلسل کوششیں کرکے قومی محاذ کی تشکیل کیلئے تمام اہم پارٹیوں سے رابطے کیئے لیکن مخصوص پارٹیوں کی قیادت راضی نہ ہوسکی لیکن پشتونخوا نیپ ایک ذمہ دار پارٹی کے حیثیت سے پشتون قومی محاذ کی تشکیل کے کوششیں جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ پشتون عوام سندھ اور پنجاب میں اذیت ناک مشکلات کا سامنا کررہے ہیں اور پشتون نام کو نفرت سے جوڑ دیا ہے اور اسی طرح افغان کڈوال عوام کو بھی مشکلات سے دوچار کیا گیا ہے وزیراعلیٰ مریم نواز کا بیان اُس کی پشتون دشمنی، بدترین چالاکی اور منفی عزائم کو ثابت کرتی ہے حالانکہ دہشتگردی کے تمام مراکز پنجاب میں واقع ہیں اور اُن کے جرنیل ان مجاہدین کو اپنے اثاثے بولتے اور ہیروز قراردیتے رہیں اس طرح ہمارے پشتون عوام کا قتل عام بھی جاری ہے اور ہمیں ہی غلط قرار دے رہے ہیں جو قابل مذمت اور ناقابل برداشت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں نے انتہائی سیاسی بصیرت اور علمی صلاحیتوں کے بلبوتے پر ہر پلان بناتےہوئے اپنے تنظیمی اور عوامی رابطوں میں مزید تیزی پیدا کرنی ہوگی اور پارٹی کے قومی کانگریس کو کامیابی سے ہمکنار کرنا ہوگااور جنوبی پشتونخوا میں آل پارٹیز اتحاد اور اُس کے پلیٹ فارم سے مشترکہ جدوجہد خوش آئند ہے اور اسی طرح خیبر پشتونخوا میں مصنوعی دہشتگردی کے خلاف اتحاد کی تشکیل کیلئے کوششیں جاری ہے اور نئے صوبوں کے نام پر پشتونخوا وطن کی وحدت کو مزید کمزور کرنے کی سازش کے خلاف جدوجہد کو آگے بڑھانا ہوگا جبکہ افغانستان میں ملی فکر اور ملی محاذ کی اُمیدیں بڑھ رہی ہے اور ان امکانات کو مدنظر رکھ کر اپنی صفوں کو مزید مضبوط کرنا ضروری ہے اور پشتونخوا وطن کے جوانوں میں قومی دلیری اور سیاسی بیداری کا جوش و جذبہ موجود ہے انہیں مزید فعال اور منظم کرنے کی ضرورت ہے۔

WhatsApp
Get Alert