فیملی ولاگنگ کے نام پر فحش و نامناسب مواد کی روک تھام کا فیصلہ

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) وفاقی حکومت نے ملک میں سوشل میڈیا کے استعمال کو منظم بنانے، بچوں کے استحصال کو روکنے اور فیملی ولاگنگ کے نام پر اخلاقی حدود کی خلاف ورزی کے پیش نظر سوشل میڈیا قوانین کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ اقدامات میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال کے لیے صارفین کی کم از کم عمر کی حد مقرر کرنے اور فیملی ولاگنگ کے نام پر فحش و نامناسب مواد کی روک تھام کی اہم تجاویز شامل ہیں تاکہ آن لائن حدود کو یقینی بنایا جا سکے، وزارتِ داخلہ اس مجوزہ قانون سازی کو حتمی شکل دینے سے قبل تمام متعلقہ اداروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے وسیع تر مشاورت کرے گی۔
سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے لیے قوانین مزید سخت کرنے کا فیصلہ
وزارتِ داخلہ نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا فیصلہ کر لیا، ذرائع
سوشل میڈیا پر بچوں کے استحصال اور فحاشی کے بڑھتے واقعات پر تشویش
سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے عمر کی حد مقرر کرنے کی تجویز، ذرائع
فیملی وی لاگنگ…
— 92 News HD Plus (@92newschannel) September 17, 2026
ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ یہ اہم پیشرفت سوشل میڈیا پر بچوں کے معاشی و نفسیاتی استحصال، آن لائن ہراسانی اور فیملی ولاگنگ کی آڑ میں پھیلتے ہوئے غیر اخلاقی اور نامناسب مواد سے متعلق بڑھتے ہوئے شدید عوامی و سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کی جا رہی ہے تاکہ انٹرنیٹ کو محفوظ بنایا جا سکے، اس مشاورتی عمل میں پی ٹی اے، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی اور وفاقی و صوبائی پولیس کے اعلیٰ حکام کی شرکت متوقع ہے۔
اس سلسلے میں بین الاقوامی ماڈلز کا جائزہ لیتے ہوئے ذرائع نے بتایا کہ حکومت آسٹریلیا سمیت دنیا کے مختلف ممالک کی جدید سوشل میڈیا پالیسیوں کا بھی باریک بینی سے جائزہ لے گی، جبکہ ضوابط کی پاسداری نہ کرنے والے بعض سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندیاں یا مزید سخت شرائط عائد کرنے کے امکانات پر بھی غور کیا جائے گا۔
