تربت آل پارٹیز ریلی عوام دشمن اور جنگی منافع خور مافیاز کے خلاف تاریخی ثابت ہوگی: نیشنل پارٹی

مکران یونیورسٹی کا نئے صوبوں کے حق میں قرار داد پاس کرنا آئینی دائرے میں مداخلت اور علمی خیانت ہے، تحریک استحقاق لائیں گے


ٹوکن مافیا اور منشیات فروشوں نے کیچ کے عوام کا جینا دوبھر کر دیا، ریلی کے خلاف سازشیں کرنے والے عوام کو خودکفیل نہیں دیکھنا چاہتے: سعد دہوار
کوئٹہ (ڈیلی قدرت) نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری سوشل میڈیا سعد دہوار نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ 20 ستمبر کو تربت میں آل پارٹیز کے زیر اہتمام ہونے والا احتجاجی جلسہ عام اور ریلی براہ راست کیچ کے عوام کے بنیادی مفادات سے جڑی ہے۔ کیچ میں بارڈر ٹریڈ کی طویل بندش، ٹوکن مافیا کی اجارہ داری اور روزانہ چوری، ڈکیتی، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے، لاکھوں خاندان نان شبینہ کے محتاج ہو گئے ہیں۔ اسی عوامی کرب کے خلاف گزشتہ دو ہفتوں سے جاری تحریک کو تمام حقیقی سیاسی جماعتوں، انجمن تاجران، بارڈر ٹریڈ یونین، طلبا و مزدور تنظیموں، اساتذہ، وکلا اور باشعور شہریوں کی حمایت حاصل ہے، جس کی قیادت نیشنل پارٹی کر رہی ہے۔ نیشنل پارٹی ہمیشہ گروہی مفاد پر عوامی اور قومی مفاد کو ترجیح دیتی ہے۔ بیان کے مرکزی حصے میں سعد دہوار نے کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ ایک جانب عوام اپنے روزگار کے لیے سڑکوں پر ہے تو دوسری جانب مکران یونیورسٹی پنجگور جیسا علمی ادارہ آئینی معاملات پر قراردادیں پاس کر رہا ہے۔ یونیورسٹی میں نئے صوبوں پر ہونے والے پینل میں نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما، رکن قومی اسمبلی و اسٹینڈنگ کمیٹی چیئرمین پھلین بلوچ سمیت تین مقررین نے علمی و آئینی دلائل سے نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت کی جس کی مکمل ریکارڈنگ موجود ہے، لیکن انتظامیہ نے اختتام پر سب کو حامی ظاہر کر کے نہ صرف علمی خیانت کی بلکہ ایک منتخب نمائندے کی سیاسی ساکھ کو متاثر کیا۔ انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ جامعات کو کس قانون نے اختیار دیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے آئینی دائرے میں مداخلت کریں اور عوامی نمائندوں کے بارے میں غلط بیانی کریں؟ ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ یونیورسٹی انتظامیہ فوری وضاحت کرے، اصل مقف شائع کرے اور معافی مانگے، جبکہ اس معاملے پر قومی اسمبلی میں تحریک استحقاق جمع کرائی جائے گی۔ سعد دہوار نے کہا کہ کیچ ریلی کی مخالفت کرنے والے وہی عناصر ہیں جنہوں نے گزشتہ سال بلیدہ میں جلسے کا ڈرامہ رچانے کے لیے نام و نہاد فارم 47 کے پیدوار حکومتی پارٹیاں بشمول منشیات کے کاروباریوں، شاہ ٹولے اور ٹوکن مافیا کو جمع کر کے بارڈر کھولنے کا جھوٹا لالچ دیا تھا، آج جب آل پارٹیز امن و بارڈر کے لیے کھڑی ہیں تو یہی مافیا مخالفت میں ہے۔ یہ جنگی منافع خور ہیں، ان کی دکان بدامنی سے چلتی ہے، یہ عوام کو خود کفیل نہیں دیکھنا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ عوام سے مسترد شدہ فارم 47 کی پیداوار اور ٹانگہ پارٹیوں کی جانب سے نیشنل پارٹی کی مرکزی، صوبائی اور ضلعی قیادت کے خلاف کردار کشی کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، پوری پارٹی اپنی قیادت کے ساتھ کھڑی ہے۔ 20 ستمبر کی ریلی تاریخی ہوگی جو ان تمام عوام دشمن عناصر کو بے نقاب اور کیچ بدر کر دے گی۔

WhatsApp
Get Alert