پاکستان کی جمہوری اسمبلیوں میں تقریباً 30 فیصد نوجوان نمائندگی کر رہے ہیں، جبکہ ملک کی 62 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے،ر صوبائی مشیر کھیل و امور نوجوانان مینا مجید بلوچ


کوئٹہ +کیپ ٹاؤن(قدرت روزنامہ) 69ویں کامن ویلتھ پارلیمانی کانفرنس کے موقع پر بلوچستان کی نوجوان رکن صوبائی اسمبلی اور صوبائی مشیر کھیل و امور نوجوانان مینا مجید بلوچ نے ایشیا ریجن کے نوجوانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے پاکستان اور بالخصوص بلوچستان کے نوجوانوں کے مسائل، صلاحیتوں اور مستقبل کے امکانات کو عالمی پارلیمانی فورم پر اجاگر کیا۔جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن میں جاری 69ویں کامن ویلتھ پارلیمانی کانفرنس کے تحت 16 ستمبر کو منعقدہ Youth Roundtable میں مینا مجید بلوچ نے ایشیا ریجن کے نوجوانوں کی نمائندگی کی۔راونڈ ٹیبل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے نوجوانوں کو درپیش مسائل، دستیاب مواقع، ان کی صلاحیتوں اور مستقبل کے امکانات پر اظہار خیال کیا اور فیصلہ سازی و پالیسی سازی کے عمل میں نوجوانوں کی مؤثر شمولیت کی ضرورت پر زور دیا۔مینا مجید بلوچ نے کہا کہ پاکستان کی جمہوری اسمبلیوں میں تقریباً 30 فیصد نوجوان نمائندگی کر رہے ہیں، جبکہ ملک کی 62 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ پاکستان کے نوجوان توانائی، صلاحیت، ہنر اور عزم سے مالا مال ہیں اور ملک کو ترقی، خوشحالی اور روشن مستقبل کی جانب لے جانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔انہوں نے عالمی پارلیمانی برادری کے سامنے پاکستان بالخصوص بلوچستان کے نوجوانوں کی آواز اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو پالیسی اور فیصلہ سازی کے عمل میں مناسب مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔کامن ویلتھ پارلیمانی کانفرنس دولتِ مشترکہ کے رکن ممالک کی پارلیمانوں کا اہم سالانہ عالمی پلیٹ فارم ہے، جہاں مختلف ممالک کے پارلیمنٹیرینز، پارلیمانی حکام اور پالیسی سے وابستہ افراد عالمی، پارلیمانی اور سماجی امور پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔رواں سال کی 69ویں کانفرنس میں دولتِ مشترکہ کی مختلف پارلیمانوں سے سینکڑوں پارلیمنٹیرینز، پارلیمانی اسٹاف اور پالیسی ساز و فیصلہ ساز شریک ہیں۔عالمی پارلیمانی فورم پر بلوچستان سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان خاتون رکن کی جانب سے ایشیا ریجن کے نوجوانوں کی نمائندگی اور پاکستان و بلوچستان کے نوجوانوں کے مسائل، صلاحیتوں اور امکانات کو اجاگر کرنا بلوچستان کے لیے اہم اعزاز قرار دیا جا رہا ہے۔

WhatsApp
Get Alert