بلاول کے کراچی میں ڈاکوؤں کا راج، ڈاؤ یونیورسٹی کا طالبعلم دن دہاڑے ُلٹ گیا ، واردات کی ویڈیو سامنے آگئی

کراچی (قدرت روزنامہ)پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی سڑکوں پر ڈاکووں کی آزادانہ لوٹ مار نے شہریوں کا جینا دوبھر کردیا مگر بلاول کی سندھ سرکار کی بے حسی اور ڈھٹائی جوں کی توں برقرار ہے ۔
کراچی میں اسٹریٹ کرائم کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا اورصرف شہری ہی نہیں اب طلبہ بھی جرائم پیشہ عناصر کے نشانے پر آگئے جہاں دستگیر بلاک 9 میں ڈاؤ یونیورسٹی کے طالب علم کو دن دہاڑے لوٹ لیا گیا۔
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظرِ عام پر آگئی، جس میں مبینہ طور پر ملزمان کو طالب علم کو لوٹتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے ، دن کے اجالے میں پیش آنے والے واقعے نے شہریوں کی جانب سے سندھ حکومت کی کارکردگی پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کردیے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر طلبہ بھی سڑکوں پر محفوظ نہیں تو عام شہری خود کو کیسے محفوظ سمجھیں؟ اسٹریٹ کرائم کی بڑھتی وارداتوں کے باعث شہریوں میں خوف بڑھتا جارہا ہے، جبکہ مؤثر اقدامات کے دعووں کے باوجود جرائم پیشہ عناصر کھلے عام وارداتیں کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
شہری گھروں سے نکلتے ہوئے انجانے خوف کا شکار ہوتے ہیں کہ پتا نہیں کب اور کہاں سے ڈاکو آجائیں اور وہ اپنے قیمتی مال و اسباب سے محروم ہو جائیں مگر سندھ حکومت صرف دعوے ہی کرسکتی ہے، عوام کا سوال ہے کہ آخر سندھ حکومت کب جاگے گی اور شہریوں، بالخصوص طلبہ کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کب نظر آئیں گے ؟ الیکشن سے پہلے پیپلزپارٹی نے کراچی کے عوام کو تحفظ دلانے کے وعدے کیے تھے جو آج تک وفا نہ ہوسکے۔
بلاول بھٹو زرداری سندھ اور کراچی کی سیاست میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں، مگر کراچی میں شہری جان و مال کے تحفظ کو ترس رہے ہیں ، دن دہاڑے وارداتیں صوبائی حکومت کی کارکردگی پر بڑا سوال ہیں؛ عوام پوچھ رہے ہیں، جب شہر میں ڈاکو دندناتے پھریں تو یہ حکومت آخر کر کیا رہی ہے؟
