نئے انتظامی یونٹس کی مخالفت کرنے والے پاکستان کو تسلیم نہیں کرتے، مصطفیٰ کمال

دنیا کے تنازعات حل کرنے میں کوئی ایک انسان ہے تو وہ فیلڈ مارشل سید عاصم مُنیر ہیں، جو لوگ گالم گلوچ کر رہے ہیں، اُن کیلئے کہنا چاہتا ہوں کہ کتوں کے بھونکنے سے قافلے رُکا نہیں کرتے؛ وفاقی وزیر کی پریس کانفرنس


کراچی(قدرت روزنامہ)ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے پیپلز پارٹی پر سخت تنقید کرتے ہوئے ملک اور دنیا بھر کے تنازعات میں سید عاصم منیر کے کردار کی تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ یورپ، امریکہ، مشرقِ وسطیٰ، ایران اور افغانستان سمیت عالمی تنازعات حل کرنے میں اگر کوئی ایک انسان اہم کردار ادا کر رہا ہے تو وہ سید عاصم منیر ہیں، جو لوگ گالم گلوچ کر رہے ہیں وہ یاد رکھیں کہ کتوں کے بھونکنے سے قافلے رُکا نہیں کرتے۔
تفصیلات کے مطابق پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبوں اور نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے معاملے پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کی بات تو ذوالفقار علی بھٹو نے بھی اپنے آئین کی کتاب میں لکھی ہے، ایسا لگتا ہے کہ نئے انتظامی یونٹس کی مخالفت کرنے والے دراصل پاکستان کے وجود کو ہی تسلیم نہیں کرتے، عاصم منیر نے نئے انتظامی یونٹس پر کوئی آفیشل بات نہیں کی لیکن اس کے باوجود پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما ان کا نام لے کر غیر مناسب کلمات ادا کر رہے ہیں، سندھ میں نیا انتظامی یونٹ بننے سے کوئی قتل و غارت گری نہیں ہوگی بلکہ انتظامی امور بہتر ہوں گے۔
ایم کیو ایم کی پارٹی اصلاحات پر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان کی جماعت واحد سیاسی پارٹی ہے جس نے غلط راستے پر چلنے والے اپنے بانی اور لیڈر کو ہی فارغ کر دیا، ہم نے پہلے اپنے لیڈر کو سمجھایا اور جب وہ نہیں سمجھا تو پارٹی سے ہی نکال دیا، جب کہ پاکستان میں ایسی کوئی دوسری پارٹی نہیں جو یہ ہمت دکھا سکے، کراچی نے ہتھیار رکھ دیئے ہیں مگر ماضی میں جو لوگ قتل و غارت گری کرتے تھے پیپلزپارٹی لندن جا کر ان سے مذاکرات کرتی تھی اور انہیں اجرک و ٹوپیاں پہنایا کرتی تھی، پیپلز پارٹی اپنی کرپشن چھپانے کے لیے ہمیشہ سندھ کارڈ استعمال کرتی ہے۔
سندھ کے دیہی علاقوں کی زبوں حالی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بننے سے سندھی بھائیوں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزت، جان و مال پہلے سے زیادہ محفوظ ہوں گے، سندھی ہمارے بھائی ہیں اور ان کے حالات ہم سے بھی زیادہ خراب ہیں، حیدرآباد کراس کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اصل غربت کیا ہے، جہاں مائیں، بہنیں اور بیٹیاں 12، 12 کلومیٹر دور سے سر پر برتن رکھ کر وہیں سے پانی بھر کر لاتی ہیں جہاں سے جانور پانی پیتے ہیں۔

WhatsApp
Get Alert