ایک ملی سیکنڈ کی سافٹ ویئر خرابی، برطانیہ میں 2 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ ہونے کا باعث
برطانیہ کی نیشنل ایئر ٹریفک سروسز کی تحقیقاتی رپورٹ میں ہیکنگ یا دہشت گردی کے امکانات کو ردکیا گیا ہے‘سافٹ ویئرمیں پیداہونے والی خرابی کا دورانیہ محض ایک ملی سیکنڈتھا تاہم اس نے پورے ملک کے ایئرٹریفک نظام کو ہلادیا

لندنباد (قدرت روزنامہ)برطانیہ میں گزشتہ ہفتے فضائی سفر کے بڑے بحران کی وجہ ایک انتہائی مختصر سافٹ ویئر خرابی نکلی، جس نے ملک کے ایئر ٹریفک کنٹرول نظام کو متاثر کیا اور دو ہزار سے زائد پروازوں کی منسوخی کا باعث بنی. برطانیہ کی نیشنل ایئر ٹریفک سروسز (این اے ٹی ایس)کی تحقیقات کے مطابق 8 ستمبر کو نیشنل ایئر اسپیس سسٹم کے ایک چھوٹے حصے میں سافٹ ویئر خرابی پیدا ہوئی یہ خرابی محض ایک ملی سیکنڈ کے اندر پیدا ہونے والے مخصوص حالات کے امتزاج سے سامنے آئی، تاہم اس کے اثرات کئی گھنٹوں اور پھر دو دن سے زائد عرصے تک محسوس کیے گئے.
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق این اے ٹی ایس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب سسٹم میں ایک طیارے کے لیے شناختی کوڈ کی دستی درخواست پر کارروائی جاری تھی اسی دوران زیادہ ترجیح رکھنے والی ایک دوسری سرگرمی کا پیغام موصول ہوا، جس کے باعث پہلی کارروائی عارضی طور پر رک گئی جب طیارے کے شناختی کوڈ کی درخواست پر کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو سافٹ ویئر کی خرابی کے باعث یہ عمل درست طریقے سے بحال نہ ہوسکا اور کچھ معلومات خراب ہوگئیں یہ معلومات بعد میں پروازوں کے ڈیٹا کو اپ ڈیٹ کرنے کے لیے استعمال ہورہی تھیں.
این اے ٹی ایس کا کہنا ہے کہ یہ پورا تکنیکی عمل”ایک ملی سیکنڈ“ کے اندر ہوا، تاہم اس مختصر خرابی کے نتیجے میں فضائی ٹریفک کنٹرولرز کے لیے دستیاب معلومات متاثر ہوئیں مسافروں کی حفاظت کو ترجیح دیتے ہوئے فضائی ٹریفک پر پابندیاں عائد کی گئیں تاکہ سسٹم کو دوبارہ شروع کرکے پروازوں کا ڈیٹا بحال کیا جاسکے پابندیاں تقریباً چھ گھنٹے جاری رہیں اور ادارے کے مطابق اسی شام نظام معمول کے مطابق کام کرنے لگا تاہم اس وقت تک نہ صرف برطانیہ بلکہ دنیا کے کئی خطوں میں اس نظام سے جڑے سسٹم میں مسائل کی وجہ سے پروازوں میں تعطل آیا.
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اصل مسئلہ سسٹم کے دوبارہ فعال ہونے کے بعد بھی ختم نہیں ہوا پروازوں کی بڑی تعداد منسوخ ہونے، طیاروں اور عملے کے شیڈول متاثر ہونے اور مسافروں کے جمع ہونے کے باعث پیدا ہونے والا بیک لاگ ختم ہونے میں دو دن سے زیادہ لگ گئے ایوی ایشن ڈیٹا کمپنی کے مطابق 8 ستمبر کو 1,746 جبکہ 9 ستمبر کو مزید 399 پروازیں منسوخ ہوئیں یعنی دو دن میں مجموعی طور پر 2,145 پروازیں منسوخ ہوئیں صنعت سے وابستہ ادارے یوکے ایئرلائنز کے مطابق 3 لاکھ 30 ہزار سے زیادہ مسافر متاثر ہوئے.
برطانوی فضائی کمپنی برٹش ایئرویز بھی شدید متاثر ہوئی اور تقریباً 550 پروازیں منسوخ ہوئیں، جس سے تقریباً 85 ہزار مسافروں کے سفر کے منصوبے متاثر ہوئے متحدہ عرب امارات سے برطانیہ آنے جانے والی پروازیں بھی متاثر ہوئیں اتحاد ایئرویز کے مطابق لندن سے ابوظہبی جانے والی ایک پرواز منسوخ ہوئی جبکہ دوسری پرواز تاخیر کا شکار ہوئی ایک اور پرواز کو پیرس منتقل کرنا پڑا، جس کے بعد مسافروں کی دوبارہ بکنگ اور دیگر انتظامات کیے گئے امارات ایئرلائن نے بھی برطانیہ کے مختلف ہوائی اڈوں سے آنے اور جانے والی پروازوں کے متاثر ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے مسافروں کو روانگی سے قبل پرواز کا تازہ ترین اسٹیٹس چیک کرنے کی ہدایت کی تھی.
این اے ٹی ایس کی ابتدائی تحقیقات میں سائبر حملے یا تخریب کاری کے شواہد سامنے نہیں آئے ادارے کے چیف ایگزیکٹو مارٹن رولف نے کہا کہ مسئلہ فضائی ٹریفک کنٹرول نظام کے ایک مخصوص حصے میں موجود سافٹ ویئر کوڈ کی خرابی سے متعلق تھا انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ تازہ واقعہ 2023 میں پیش آنے والے ایک بڑے فضائی ٹریفک کنٹرول تعطل سے متعلق نہیں تھا ادارے کے مطابق مسافروں کی حفاظت متاثر نہیں ہوئی اور سسٹم کی خرابی کے دوران حفاظتی اقدامات کے تحت پروازوں کی تعداد محدود کی گئی.
برطانوی حکومت نے تاہم این اے ٹی ایس کی ابتدائی رپورٹ کو حتمی قرار نہیں دیا وزیر ٹرانسپورٹ ہیڈی الیگزینڈر نے سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کو واقعے کی آزادانہ جائزہ رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت کی ہے. اس جائزے میں این اے ٹی ایس کی تحقیقات، فضائی ٹریفک کنٹرول نظام کی لچک، مستقبل کی سرمایہ کاری اور ریگولیٹری نگرانی کا جائزہ لیا جائے گا ”سی اے اے“ کی رپورٹ آئندہ چھ ماہ میں متوقع ہے ادھر این اے ٹی ایس نے کہا ہے کہ خرابی کی نشاندہی کرلی گئی ہے اور عارضی حفاظتی اقدامات نافذ ہیں، جبکہ مستقل سافٹ ویئر حل کی جانچ اور تنصیب کا عمل جاری ہے.
