سرکاری ملازمین کیلئے نئے قوانین کی تیاری، سول سروس میں بڑی تبدیلیاں تجویز

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وفاقی سول سروس میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی تیاری کرلی گئی ہے۔ وزیراعظم کی خصوصی کمیٹی نے سول سروس اصلاحات کے لیے اسمارٹ اصلاحات پیکیج کی سفارشات مکمل کرلی ہیں، جن میں سرکاری افسران کی ترقی، تعیناتی، بھرتی، تربیت اور مراعات کے نظام میں تبدیلیاں شامل ہیں۔

کمیٹی کی سربراہی وفاقی وزیر احسن اقبال نے کی۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق اصلاحات کے لیے آئین میں ترمیم کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ سول سرونٹس ایکٹ 1973 اور رولز آف بزنس 1973 میں مجموعی طور پر 22 ترامیم کے ساتھ 3 نئے قوانین متعارف کرانے کی سفارش کی گئی ہے۔ کمیٹی نے اصلاحات کی تیاری کے دوران بھارت سمیت 25 ممالک کے سول سروس نظام کا جائزہ بھی لیا۔

مجوزہ اصلاحات میں سرکاری افسران کی ترقی اور تعیناتی کے موجودہ طریقہ کار میں تبدیلی کی تجویز دی گئی ہے۔ سفارشات کے مطابق صرف سینیارٹی کو بنیاد بنانے کے بجائے افسر کی کارکردگی، اہلیت اور حاصل کیے گئے نتائج کو بھی اہمیت دی جائے گی۔

بھرتی اور تربیت کے نظام میں بھی تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔ سفارشات میں علاقائی، لسانی، صنفی اور طبقاتی بنیادوں پر مساوی مواقع یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے تاکہ سرکاری ملازمتوں کے نظام میں برابری کا اصول برقرار رہے۔

سی ایس ایس امتحان کے حوالے سے بھی اہم تجاویز سامنے آئی ہیں۔ روایتی ایک روزہ زبانی انٹرویو کے بجائے امیدواروں کی صلاحیت، شخصیت اور مختلف شعبوں میں اہلیت جانچنے کے لیے زیادہ جامع طریقہ کار اختیار کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

ابتدائی اسکریننگ ٹیسٹ کے حوالے سے بھی تبدیلی تجویز کی گئی ہے۔ سفارش کے مطابق پاسنگ مارکس کی حد 33 فیصد سے بڑھا کر 40 فیصد کرنے پر غور کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ امتحان میں نیگیٹو مارکنگ ختم کرنے اور امیدواروں کی تجزیاتی صلاحیت جانچنے کے لیے نیا حصہ شامل کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

سی ایس ایس کے بنیادی امتحان اور اردو و انگریزی میں عملی مہارت کی شرط برقرار رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ساتھ ہی کامیاب امیدواروں کو ان کی تعلیمی قابلیت اور متعلقہ مہارت کے مطابق مخصوص آسامیوں پر تعینات کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

بھرتی کے پورے عمل کو طویل کرنے کے بجائے اسے چھ ماہ یا اس سے کم عرصے میں مکمل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد امیدواروں کے انتخاب اور تعیناتی کے عمل میں غیر ضروری تاخیر کو کم کرنا ہے۔

مجوزہ پیکیج میں سرکاری افسران کی کارکردگی جانچنے کے لیے مختلف سطحوں پر جائزے کا نظام اور سول سروس کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیاں بھی شامل ہیں۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق نیشنل یونیورسٹی آف پبلک ایڈمنسٹریشن اور نیشنل ایگزیکٹو سروس کے قیام سمیت بعض ادارہ جاتی تبدیلیوں کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ یہ تمام نکات فی الحال اصلاحاتی پیکیج کی سفارشات ہیں۔ ان پر حتمی فیصلہ حکومت کی منظوری کے بعد ہوگا۔ سفارشات کی منظوری کے بعد اصلاحات پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے، جو پیش رفت کا جائزہ لے گی۔

یوں وفاقی حکومت کے زیر غور یہ پیکیج سرکاری ملازمین کی بھرتی سے لے کر ترقی، تعیناتی اور کارکردگی کے جائزے تک مختلف شعبوں میں تبدیلیاں لانے کی کوشش ہے۔ حتمی منظوری اور عملی نفاذ کے بعد ہی ان تجاویز کے تحت سرکاری ملازمین کے نظام میں ہونے والی اصل تبدیلیاں واضح ہوں گی۔

WhatsApp
Get Alert