ہماری نسل نے طاقت کے سامنے خاموش رہنا سیکھ لیا، جسٹس ریٹائرڈ منصور علی شاہ

آواز اٹھانے والا ٹرانسفر ہوجاتا ہے، آزادی پر قائم جج کو ہٹا دیا جاتا ہے، خاموش رہنے پر ترقی ملتی ہے، مسلسل احتیاط آخرکار سمجھوتے اور پھر طاقت کے سامنے تابعداری میں بدل جاتی ہے؛ سابق جج سپریم کورٹ کا آرٹیکل


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)سپریم کورٹ کے سابق سینئر ترین جج جسٹس ریٹائرڈ منصور علی شاہ نے ملک کے موجودہ نظامِ عدل، عدالتی سمجھوتوں اور پاکستان کی نوجوان نسل کے مستقبل پر گہرے اور تلخ سچائیوں پر مبنی خیالات کا اظہار کردیا۔ انگریزی اخبار ڈان میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں انہوں نے ماضی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے لکھا کہ جب ملک میں مارشل لا نافذ ہوا تو میری عمر محض 14 سال تھی اور جب وہ آمریت کا حامل جنرل انتقال کرگیا تو میں ایک نوجوان بن چکا تھا، ہماری نسل نے ایک انتہائی خطرناک سبق سیکھا کہ اقتدار اپنے اعمال کی کبھی وضاحت نہیں کرتا، جو شخص حق کے لیے آواز اٹھاتا ہے اس کا تبادلہ کر دیا جاتا ہے، جو خاموش رہتا ہے اسے ترقی ملتی ہے اور جو جج اپنی خودمختاری اور آزادی پر اصرار کرتا ہے اسے راستے سے ہٹا دیا جاتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ احتیاط اگر طویل عرصے تک اختیار کی جائے تو وہ آہستہ آہستہ سمجھوتے میں بدل جاتی ہے، اور یہی سمجھوتہ آخرکار مکمل فرمانبرداری کا روپ دھار لیتا ہے، جس کے نتیجے میں قومیں اقتدار کے سامنے سمجھوتہ کرنا سیکھ جاتی ہیں، میں نے ایسے لوگوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے جو عدالت کی بار میں بے خوف اور نڈر ہو کر کھڑے ہوتے تھے لیکن بنچ پر پہنچتے ہی ان کے رویے اور اصول یکسر بدل گئے۔

منصور علی شاہ لکھتے ہیں کہ یہ تبدیلی نہ تو اچانک آتی ہے اور نہ ہی ہمیشہ پیسوں کی وجہ سے ہوتی ہے بلکہ عہدے اور اختیارات کی آسائش آہستہ آہستہ اپنا اثر دکھاتی ہے اور پھر ہر ناگزیر سمجھوتے کو حقیقت پسندی کا خوبصورت نام دے دیا جاتا ہے، پاکستان کی آبادی میں ہر تین میں سے دو افراد کی عمر 30 سال سے کم ہے، سوال یہ نہیں کہ جنریشن زی پاکستان کو تبدیل کرے گی یا نہیں بلکہ آبادی کے اس بڑے تناسب کی وجہ سے یہ تبدیلی ہر صورت آئے گی، اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اور اس کے ادارے اس بڑی تبدیلی کے لیے خود کو تیار کریں گے؟۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی اگلی نسل کی تعمیر گلی محلوں کے احتجاج سے نہیں بلکہ فکر، منطق اور سنجیدہ بحث سے ہوگی، جس کی شروعات ہماری یونیورسٹیوں کے کلاس رومز سے ہونی چاہیے، ہر کلاس روم کو ایک چھوٹی جمہوری ریاست کا روپ دھارنا چاہیے جہاں طلبہ محض نصاب رٹنے کے بجائے اپنے شعبے کے اخلاقی اور آئینی سوالات پر کھلم کھلا بحث کریں۔ سپریم کورٹ کے سابق جج کا کہنا ہے کہ الیکشن لڑنے، ہار مان کر بھی جیتنے والے کے ساتھ مل کر کام کرنے اور اختلافِ رائے کو تحفظ دینے سے ہی جمہوریت اور قومی کردار کی اصل بنیاد پڑتی ہے، جب نوجوانوں کو نظریاتی تعلیم کے ساتھ ساتھ عدالتوں، ہسپتالوں اور کارخانوں کے ماحول جیسے تلخ زمینی حقائق سے جوڑا جائے گا، تو وہ ایک ایسا باصلاحیت اور باشعور معاشرہ بنائیں گے جسے آئین و عوام کی مرضی کے بغیر نااہل یا غیر جمہوری قوتوں کے ذریعے کبھی نہیں چلایا جا سکے گا۔

WhatsApp
Get Alert