ملک میں اس سطح کا غیرقانونی کریک ڈاؤن پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا، یہ شرمناک ہے! زلفی بخاری

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) مشیر بانی پی ٹی آئی زلفی بخاری کا کہنا ہے کہ ملک میں اس سطح کا غیرقانونی کریک ڈاؤن پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا، شرمناک ہے۔ پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی اور سینیٹرز کو پارلیمنٹ کے باہر سے اغواء کیا جا رہا ہے، دنیا میں اور کہاں ایسا دیکھنے کو ملتا ہے؟ ایکس پر اپنے ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ 20 دن گزر جانے کے باوجود حماد اظہر کو ہنوذ لاپتہ/رابطے سے محروم رکھا جا رہا ہے، اور انہیں ان کے وکیل اور اہلخانہ تک رسائی دینے سے انکار کیا جا رہا ہے۔
ان کی 75 سالہ والدہ اب انصاف اور خاندان سے ملاقات کی طلب میں لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔ دوسری جانب ہمارے منتخب اراکینِ قومی اسمبلی اور سینیٹرز کو پارلیمنٹ کے باہر سے اغوا کیا جا رہا ہے۔
اس سطح کا غیر قانونی کریک ڈاؤن پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ شرمناک!
20 days have passed, yet Hammad Azhar continues to be kept incommunicado, denied access to both his lawyer and his family. His 75-year-old mother has now been forced to approach the Lahore High Court, seeking justice and family. Meanwhile our elected Members of National Assembly… pic.twitter.com/pqfiLIWiFQ
— Sayed Z Bukhari (@sayedzbukhari) September 21, 2026
زلفی بخاری نے مزید ایک ٹویٹ میں کہا کہ پشاور سے خیبر پختونخوا کے تین بار کے نگران/موجودہ صوبائی وزیر فضل شکور خان کو روزِ روشن میں اغوا کرنے کی ویڈیو فوٹیج۔
27 تاریخ کے احتجاج سے قبل ایجنسیاں اس طرح لوگوں کو اغوا کر رہی ہیں۔ دنیا میں اور کہاں ایسا دیکھنے کو ملتا ہے؟ جہاں خواتین اور بچوں تک کو نہیں بخشا جا رہا۔ مزید برآں لاہور ہائی کورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی بہنوں عظمی خان اور نورین نیازی کی نظر بندی چیلنج کر تے ہوئے درخواست دائرکردی گئی ہے ۔ درخواست میں پنجاب حکومت، ہوم ڈپارٹمنٹ، ڈی سی لاہور سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار کا موقف ہے کہ ڈی سی لاہور نے غیر قانونی طور پر نظر بندی کے احکامات جاری کیے۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت ڈی سی کے غیر قانونی نظر بندی کے احکامات کو کالعدم قرار دے۔واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں نورین نیازی اور عظمی خان کو لاہور سے حراست میں لے کر نظر بند کر دیا گیا، دونوں کو 30 روز کے لیے نظر بند کیا گیا ہے۔
