لاہور میں آذربائیجانی خاتون سے مبینہ زیادتی: دلہن بنی ڈیانا کی ویڈیو سامنے آگئی


لاہور(قدرت روزنامہ)لاہور میں آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی غیر ملکی خاتون ڈیانا سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے کیس میں روز بروز سنسنی خیز موڑ سامنے آ رہے ہیں۔ ایک طرف جہاں لاہور کی کینٹ کچہری میں گرفتار ملزمہ مسکان کے جسمانی ریمانڈ پر سماعت ہوئی، وہیں خاتون کی پاکستان میں موجودگی، پنجاب اسمبلی کے دورے کی ویڈیوز اور جہلم میں مبینہ نکاح سے متعلق اہم دستاویزات سامنے آئی ہیں جو ان کی ملک میں نقل و حرکت کو ظاہر کرتی ہیں۔
آذربائیجانی خاتون ڈیانا کا مبینہ نکاح نامہ بھی سامنے آیا ہے، جس کے مطابق ان کی شادی جہلم میں ہوئی، جبکہ ویڈیو میں وہ دلہن کے روپ میں دکھائی دے رہی ہیں۔
معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے اعلیٰ سطح پر تفتیش جاری ہے جبکہ کیس سے جڑے تمام شواہد اور عدالتی بیانات پر باریک بینی سے پیش رفت کی جا رہی ہے۔
لاہور کے جوڈیشل مجسٹریٹ اظہر محمود کی عدالت میں کیس میں نامزد ملزمہ مسکان کو سخت سیکیورٹی میں پیش کیا گیا۔
سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمہ مسکان کا یہ پہلا جسمانی ریمانڈ ہے اور تفتیش کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ان کی تحویل ضروری ہے۔
اس پر ملزمہ کے وکیل نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کی مؤکل سے پولیس نے کچھ بھی برآمد نہیں کرنا اور قتل یا ڈکیتی کی دفعات کے بغیر ان کا ریمانڈ نہیں لیا جا سکتا، مزید یہ کہ مسکان کا تعلق ڈیانا سے صرف دوستی کی حد تک ہے۔
سماعت کے دوران جب جوڈیشل مجسٹریٹ نے ملزمہ مسکان سے پوچھا کہ کیا آپ نے اپنا میڈیکل کروانا ہے، تو ملزمہ نے جواب دیا کہ نہیں، میں نے اپنا میڈیکل نہیں کروانا، جس کے بعد عدالت نے ریمانڈ پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
دوسری جانب متاثرہ خاتون ڈیانا کا دفعہ 164 کے تحت جوڈیشل مجسٹریٹ محمد صغیر کی عدالت میں ریکارڈ کروایا گیا بیان سامنے آیا ہے۔
خاتون نے عدالت میں بتایا کہ میں 13 ستمبر کو استنبول سے اسلام آباد پہنچی تھی اور بعد میں لاہور آئی، جہاں میری ملاقات نمرہ اور مسکان سے ہوئی۔
ڈیانا نے الزام عائد کیا کہ ان کی دوست نمرہ نے ایک تقریب کے لیے ملزمان سے رقم لی اور بعد میں محسن، احمد اور علی زین نامی افراد نے انہیں ایک اپارٹمنٹ میں الگ کمرے میں بند کر دیا جہاں انہیں زبردستی شراب پلائی گئی اور ان کے ساتھ مبینہ زیادتی کی گئی۔
خاتون کے مطابق ملزمان نے ان کا آئی فون، ریڈمی موبائل اور دو لاکھ روپے نقد رقم سے بھرا بیگ بھی چھین لیا اور انہیں گاڑی سے باہر دھکا دے دیا، جس کے بعد مقامی لوگوں کی مدد سے پولیس ایمرجنسی نمبر 15 پر اطلاع دی گئی۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق پولیس نے تھانہ ڈیفنس سی میں درج مقدمے کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے اب تک دو لڑکیوں اور تین مردوں سمیت کل پانچ افراد کو حراست میں لے لیا ہے، جبکہ مرکزی ملزمان کے چھ قریبی دوستوں سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ متاثرہ غیر ملکی خاتون کی میڈیکل رپورٹ میں مبینہ زیادتی کی تصدیق ہوئی ہے اور جوہر ٹاؤن کے ایک کیفے سے ان کی موجودگی کی تصاویر بھی ملی ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق خاتون کے چھینے گئے دونوں موبائل فونز اور رقم کی برآمدگی کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے جبکہ ہائی پروفائل کیس کی شفاف تفتیش کے لیے پراسیکیوٹر نے تمام ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔

WhatsApp
Get Alert