مجھے 4 اکتوبر پشاور میں کرفیوکا سماں نظر آرہا ہے، شیرافضل خان مروت

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) رکن اسمبلی شیر افضل خان مروت کا کہنا ہے کہ 4 اکتوبر کو لاٹھیاں ہوں گی اور ہر اس انسان کا سر ، کندھا اور پیٹھ ہوگی جو باہر نکلے گا، مجھ سے ڈریں کیوں کہ میں کوئی نارمل آدمی نہیں ہوں ۔ انہوں نے تجزیہ کار ارشاد بھٹی کے ساتھ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے چار اکتوبر کو کرفیوکا سماں نظر آرہا ہے، 4 اکتوبر کو لاٹھیاں ہوں گی اور ہر اس انسان کا سر ، کندھا اور پیٹھ ہوگی جو باہر نکلے گا۔
ایک سوال پر شیر افضل مروت نے کہا کہ مجھ سے دو تین صحافیوں نے سینیٹ کے ٹکٹ مانگے تھے، اس میں معید پیرزادہ ، علی زئی بھی تھے، علی زئی مجھ سے ملنے کیلئے بھی آیا تھا۔
4 اکتوبر کو لاٹھیاں ہوگی اور ہر اس انسان کا سر،کندھا اور پیٹھ ہوگی جو باہر نکلے گا۔ شیر افضل مروت@IrshadBhatti336 #PTI #Peshawar pic.twitter.com/Gp3SflNHog
— Ali Hassan (@AliJrnlst) September 30, 2026
میں نے عمران خان کو پیغام دیا تھا لیکن عمران خان نے معذرت کرلی تھی۔
عمران خان نے کہا کہ میری اور کمٹمنٹ ہیں، جب میں نے ان کو ٹکٹ نہیں لے کر دیئے یہ خلاف ہوگئے۔
انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ مجھ سے ڈریں کیوں کہ میں کوئی نارمل آدمی نہیں ہوں ۔اگر یہ لوگ راہ راست پر نہ آئے تو میں اعلانیہ کہوں گا کہ میں پی ٹی آئی کا دشمن ہوں اور دشمنی کروں گا۔مجھے اس مقام پر مت لایا جائے۔ اسی طرح تجزیہ کار منیب فاروق کا کہنا ہے کہ آج کا دن اہم اس لئے ہے کہ وزیراعظم شہبازشریف واپس آگئے ہیں، وزیراعظم نے چند اہم ملاقاتیں ہوسکتی ہیں، اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ تحریک انصاف کی خیبرپختونخواہ گورنر راج اور ایمرجنسی سے بچ جائے، آج کے دن میں مزید مثبت پیشرفت ہوسکتی ہے، تحریک انصاف کی طرف سے بیک ڈور یا فرنٹ ڈور رابطے ہیں، لانگ مارچ کے حوالے سے کہا گیا کہ بیٹھ کر فیس سیونگ کا حل تلاش کرلیتے تاکہ معاملہ یہی ٹھپ ہوجائے، اسی وجہ سے یہ امکان ہوا ہے کہ تحریک انصاف کی خیبرپختونخواہ گورنر راج اور ایمرجنسی سے بچ جائے۔
میں نے پہلے بھی کہا کہ یہ سب نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ صوبے میں دہشتگردی بھی ہے اور پی ٹی آئی کی مضبوط حکومت ہے۔صوبے میں گورنرراج اور ایمرجنسی نہ لگنے کا زور ٹوٹا ہے لیکن سہیل آفریدی کوعہدے سے ہٹانے پر سوئی ابھی بھی اٹکی ہوئی ہے، ان کو جانا ہوگا۔ آپشن یہ ہے کہ ان ہاؤس چینج پر بات ہورہی ہے، یعنی تحریک عدم اعتماد لائی جائے، کچھ لوگوں نے اس پر اتفاق بھی کیا ہے کہ صوبہ بہتر انداز میں چلے اور ریاست کی پالیسی کے مطابق چیزیں وہاں چلائی جائیں۔
