ہم نے 171 بندہ لیبیا سے برآمد کیا ہے، یہ تمام لوگ بائی ائیر گئے تھے، ڈی جی ایف ائی اے
یہ ملائیشا، تھائی لینڈ یا عمرے ویزہ پر جاتے ہیں اور لیبیا سے برآمد ہوتے ہیں، پاکستان کے ایک خاص حصے کے لوگ زیادہ تر ایسے جا رہے ہیں؛ ڈاکٹر عثمان انور کی میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور نے ملک بھر کے ایئرپورٹس پر مسافروں کی آف لوڈنگ کے معاملے پر بتایا ہے کہ سکیورٹی اداروں نے لیبیا سے 171 پاکستانی شہریوں کو برآمد کیا، جو قانونی طور پر ہوائی سفر کے ذریعے بیرونِ ملک گئے اور بعد میں انسانی سمگلروں کے خطرناک ڈنکی نیٹ ورک کا شکار بن گئے۔
میڈیا سے گفتگو میں آف لوڈنگ کے طریقہ کار اور عدالتی احکامات پر بات کرتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ ایئرپورٹس پر کسی بھی مسافر کو بلاوجہ پریشان نہیں کیا جاتا، ہائیکورٹ نے آف لوڈنگ کا ایک پورا باضابطہ عمل بنا کر دیا ہے اور اسی کے تحت صرف ان افراد کو روکا جاتا ہے جن کے پاس اپنے سفر، قیام اور منزل کے حوالے سے کوئی بنیادی معلومات یا دستاویزات نہیں ہوتیں۔
آف لوڈنگ کےبہت معاملات ارہے ہیں کیا کہیں گے ؟ڈی جی ایف ائی اے ڈاکٹر عثمان انور سے سوال؟
ڈی جی ایف ائی اے نے کیا فرمایا خودی سن لیں pic.twitter.com/javHle5AnN— Waqas Awan (@WaqasAwan666) October 1, 2026
انہوں نے انکشاف کیا کہ ہم نے ابھی لیبیا سے 171 بندے برآمد کیے ہیں اور ان تمام افراد نے ہوائی سفر کیا تھا، پاکستان کے ایک خاص حصے سے تعلق رکھنے والے لوگ سب سے زیادہ اس عمل میں ملوث پائے گئے ہیں، یہ لوگ پہلے عمرہ ویزے پر سعودی عرب یا وزٹ ویزے پر ملائیشیا اور تھائی لینڈ جاتے ہیں اور پھر وہاں سے انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورک کا حصہ بن کر ڈنکیوں کے ذریعے لیبیا پہنچتے ہیں اور بعد میں وہاں سے برآمد ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر عثمان انور کا کہنا تھا کہ شہریوں کو غیر قانونی سفر، انسانی سمگلروں کے دھوکے اور افریقہ و یورپ کے خطرناک ترین خونی راستوں پر جا کر اپنی جانیں گنوانے سے بچانے کے لیے ایئرپورٹس پر طے شدہ عدالتی پروسیس کے مطابق سخت جانچ پڑتال اور آف لوڈنگ کا سلسلہ پوری شفافیت کے ساتھ جاری رہے گا۔
